شلپا شیٹی ایک اور مشکل میں پھنس گئی؟ بنگلورو پب میں ہنگامے کی تحقیقات شروع
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
BANGLORE:
بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ شلپا شیٹی کا نام ایک اور تنازع میں لیا جا رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کیا وہ ایک اور مشکل پھنس گئی ہیں کیونکہ بنگلور کے واقع ان کے مشہور پب میں رات گئے ہونے والا معمولی تنازع سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کافی سنگین ہوگیا ہے اور پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شلپا شیٹی مذکورہ پب کی شریک مالکن ہیں اور بنگلور میں یہ واقعہ مبینہ طور پر 11 دسمبر کی رات تقریباً ڈیڑھ بجے سینٹ مارکس روڈ پر واقع واقع ریسٹورنٹ اور پب باسٹین میں پیش آیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پب کے اندر موجود افراد کے ایک گروپ کے درمیان بلند آواز میں تلخ کلامی ہو رہی ہے، جہاں ماحول خاصا کشیدہ دکھائی دیتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ ہنگامہ بل کی ادائیگی کے معاملے پر ہونے والی ایک معمولی تکرار سے شروع ہوا اور معمول کی ادائیگی مبینہ طور پر گاہکوں کے درمیان بحث و تکرار میں بدل گئی، صورتحال بگڑنے پر پب کے عملے نے مداخلت کی اور معاملہ ٹھنڈا کر کے نظم و ضبط بحال کرنے کی کوشش کی۔
بھارتی میڈیا نے بتایا کہ وائرل ویڈیوز میں کاروباری شخصیت ستیہ نائیڈو بھی نظر آ رہے ہیں، جو سابق بگ باس میں بطور امیدوار شامل تھے اور ایک ٹی وی اینکر کے سابق شوہر ہیں، ان کی موجودگی نے سوشل میڈیا پر چہ مگوئیوں میں مزید اضافہ ہوا اور یہ واقعہ شہریوں توجہ کا مرکز بن گیا۔
ستیہ نائیڈو نے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے واقعے میں بدتمیزی یا غلط رویے کی تردید کی اور کہا کہ وہ دوستوں کے ساتھ صرف کھانے کے لیے پب گئے تھے اور اختلاف صرف بل کی ادائیگی کے دوران پیدا ہوا اور واضح کیا کہ اس دوران ہاتھا پائی نہیں ہوئی۔
کیا شلپا شیٹی براہِ راست اس واقعے میں شامل ہیں؟
میڈیا کے مطابق شلپا شیٹی فوٹیج میں نظر نہیں آتیں اور واقعے کے وقت وہاں موجود بھی نہیں تھیں تاہم انہوں نے 2019 میں معروف ریسٹورنٹس کے مالک اور باسٹین برانڈ کے بانی رنجیت بندرا کے ساتھ شراکت میں یہ ریسٹورنٹ شروع کیا تھا۔
مزید بتایا گیا کہ اگرچہ ادارے کی شریک مالک ہونے کی وجہ سے ان کا نام میڈیا میں زیر بحث ہے جبکہ تاہم اداکارہ کی جانب سے اس واقعے میں ان کا نام آنے پر تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا نے بتایا کہ سینٹرل ڈویژن کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے واقعے کا ازخود نوٹس لیتےہوئے واقعے میں ملوث افراد کو تفتیش کے لیے طلب کر لیا ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج اور متعلقہ افراد کے بیانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اگر تحقیقات کے دوران کسی سنگین جرم کا انکشاف ہوا تو باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے گا۔
بھارتی میڈیا نے بتایا کہ فی الحال یہ معاملہ پولیس کے زیرتفتیش ہے تاہم سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس واقعے نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ کس طرح رات گئے ہونے والی ایک معمولی تکرار اور خاص طور پر جب معاملہ کسی مشہور شخصیت کے ریسٹورنٹ سے متعلق ہو تو ایک عام واقعہ لمحوں میں عوامی تنازع کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر بھارتی میڈیا نے بتایا کہ واقعے میں شلپا شیٹی
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔