ہانیہ عامر کے نئے لُک پر سوشل میڈیا صارفین نے کیا کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
پاکستان کی مقبول ترین اداکارہ اور فلم اسٹار ہانیہ عامر کی لکس اسٹائل ایوارڈز میں شرکت کے دوران ان کے مختلف انداز اور لُک نے ایک بار پھر سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کرلی۔
ہانیہ عامر انسٹاگرام پر 19.2 ملین سے زائد فالوورز رکھتی ہیں، وہ ان دنوں اپنے ڈرامہ سیریل میری زندگی ہے تو کی وجہ سے خبروں میں ہیں، انہوں نے فلم جنان اور نامعلوم افراد 2 سے شہرت حاصل کی، جبکہ ان کے مقبول ڈراموں میں تتلی، دلربا، عشقیا، میرے ہمسفر، کبھی میں کبھی تم اور مجھے پیار ہوا تھا شامل ہیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران ہانیہ عامر اپنی قدرتی خوبصورتی کے باوجود مبینہ طور پر کاسمیٹک پروسیجرز کروانے کی خبروں کے باعث بھی توجہ کا مرکز بنی رہی ہیں۔
معروف ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر سمن ذیشان نے ہانیہ عامر کی حالیہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ان کے چہرے میں نظر آنے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہانیہ کا چہرہ ان کے پہلے علاج شدہ لُک سے مختلف دکھائی دے رہا ہے، جس پر سوال اٹھایا گیا کہ آیا یہ تبدیلی فیشل فلرز کی وجہ سے ہے یا محض نیا اسٹائل اور میک اپ ہے۔
اس کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے اس معاملے پر رائے کا اظہار کیا، بعض صارفین نے کہا کہ ہانیہ عامر نے چِن اور گالوں میں مزید فلرز کروائے ہیں، جبکہ کچھ کا کہنا تھا کہ وہ قدرتی طور پر خوبصورت ہیں مگر اب حد سے زیادہ تبدیلیاں کر رہی ہیں۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ شاید تازہ فلرز کی وجہ سے ان کے چہرے پر سوجن نظر آ رہی ہے، جسے سیٹل ہونے میں وقت لگتا ہے۔
کچھ صارفین نے ان کے نئے لُک کا موازنہ کورین اداکاراؤں سے بھی کیا، جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ زیادہ فلرز، نامناسب میک اپ اور لباس نے ان کی مجموعی شخصیت کو متاثر کیا ہے، تاہم چند افراد نے یہ بھی رائے دی کہ ان کی شکل میں فرق سیاہ بالوں اور نئے اسٹائل کی وجہ سے محسوس ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہانیہ عامر کی وجہ سے
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔