Jasarat News:
2026-06-03@06:39:41 GMT

ڈی جی کے ڈی اے آصف جان صدیقی کا کراچی چیمبر کا دورہ

اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT

ڈی جی کے ڈی اے آصف جان صدیقی کا کراچی چیمبر کا دورہ

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) کو قومی خزانے میں خطیر شراکت داری کے باوجود نظر انداز کرنا باعث تشویش ہے، نوصیر تیلی کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی ( کے ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل آصف جان صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی کے لیے آخری ماسٹر پلان 2020 میں تیار کیا جا رہا تھا مگر اس کے بعد شہر میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور ایسے نئے چیلنجز سامنے آئے ہیں جن کا پہلے گمان بھی نہیں کیا گیا تھا لہٰذا ان حقائق سے نمٹنے اور 2047 تک شہر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سندھ حکومت نے 2020 کے ماسٹر پلان کو اپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں گریٹر کراچی ریجنل ماسٹر پلان 2047 تیار کیا جارہا ہے۔ یہ ماسٹر پلان غیر ملکی کنسلٹنٹس کی مدد سے تیار کیا جا رہا ہے جو ترجیحات کا تعین کرے گا اور مستقبل کے انفراسٹرکچر فیصلوں کی رہنمائی کرے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کے وائس چیئرمین جاوید بلوانی ( بذریعہ زوم)، صدر کے سی سی آئی محمد ریحان حنیف، سینئر نائب صدر محمد رضا، نائب صدر محمد عارف لاکھانی، کراچی کی ترقی کے لیے کے سی سی آئی کی سب کمیٹی کے چیئرمین نوصیر سراج تیلی، سابق صدر یونس محمد بشیر اور منیجنگ کمیٹی کے ارکین نے شرکت کی۔ڈی جی کے ڈی اے آصف جان صدیقی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) سمیت تمام اہم اسٹیک ہولڈرزکو منصوبہ بندی کے عمل میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔کے سی سی آئی کو گریٹر کراچی ماسٹر پلان کے تحت تشکیل دی گئی دو اہم ترین کمیٹیوں میں شامل کیا گیا ہے تاکہ اس کی تجاویز اور سفارشات فیصلہ سازی کے عمل کا لازمی حصہ بن سکیں۔انہوں نے کے ڈی اے کی مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ سندھ حکومت ماہانہ 40 کروڑ روپے کی گرانٹ فراہم کرتی ہے لیکن صرف تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 53 کروڑ روپے درکار ہوتے ہیں جس سے 13 کروڑ روپے کا خسارہ پیدا ہوتا ہے جو پلاٹوں کی منتقلی سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پورا کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے ہم ریٹائرمنٹ کے بعد کے واجبات ادا کرنے یا خود سے منصوبے شروع کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اگرچہ کے ڈی اے کے پاس ماہر افرادی قوت اور مشینری موجود ہے مگر ہم صرف وہی منصوبے جیسے انڈر پاسز یا اوور ہیڈ پل کے منصوبے انجام دے سکتے ہیں جن کے لیے سندھ حکومت خصوصی فنڈز فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سندھ حکومت کے فنڈز سے اربوں روپے مالیت کے کئی کے ڈی اے منصوبے زیرِ تکمیل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک وقت تھا جب وفاقی حکومت بھی کراچی کی ترقی میں مدد فراہم کرتی تھی لیکن اِس وقت صرف سندھ حکومت ہی شہر میں تمام بڑے ترقیاتی کاموں کے لیے مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔بزنس مین گروپ ( بی ایم جی ) کے وائس چیئرمین جاوید بلوانی نے بذریعہ زوم اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے کے ڈی اے کے پلاٹوں پر قبضوں کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ کے ڈی اے کے پاس پہلے ہی اینٹی انکروچمنٹ سیل موجود ہے لیکن اس معاملے پر تیز اور شفاف کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس سے قبل ڈی جی کے ڈی اے کے ساتھ اس معاملے پر تبادلہ خیال کر چکے ہیں تاکہ ایسے پلاٹوں کو واگزار کروانے کے لیے عملی طریقے تلاش کیے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ اس حوالے میں کام شروع ہو چکا ہے تاہم ہم اب تک پیش رفت کے بارے میں جاننے کے خواہش مند ہیں کہ کے ڈی اے کے کتنے پلاٹوں کو کامیابی کے ساتھ واگزارکرایا گیا ہے اور کے ڈی اے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کیا ٹھوس لائحہ عمل اختیار کر رہا ہے۔جاوید بلوانی نے مزید کہا کہ ٹریفک انجینئرنگ بیورو جو کے ڈی اے کے ماتحت کام کرتا ہے وہ بڑی حد تک غیر فعال ہو چکا ہے جس کی وجہ سے شہر میں ٹریفک جام میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ کراچی میں ٹریفک سگنلز کی دیکھ بھال اور تنصیب بھی کے ڈی اے کے دائرہ اختیار میں آتی ہے اور اس بارے میں باقاعدہ بات چیت جاری ہے تاکہ تمام غیر فعال ٹریفک سگنلز کو جلد فعال کیا جا سکے۔ انہوں نے نئے ڈی جی کے ڈی اے آصف جان صدیقی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئے ڈجی کا مختلف محکموں میں مخلصانہ خدمات کا ریکارڈ ان کی صلاحیت، ایمانداری اور محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آصف صدیقی کے ڈی اے کی بحالی اور اس کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اپنی سابقہ خدمات کو برقرار رکھتے ہوئے اسی جوش و جذبہ اور عزم کا مظاہرہ کریں گے۔

ڈی جی کے ڈی اے آصف جان صدیقی کاکراچی چیمبر کا دورے موقع پر شرکاء کا گروپ

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈی جی کے ڈی اے ا صف جان صدیقی کے سی سی ا ئی کراچی چیمبر ہے انہوں نے کے ڈی اے کے ماسٹر پلان سندھ حکومت کرتے ہوئے کے لیے رہا ہے کہا کہ کیا جا نے کہا

پڑھیں:

یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ اور یورپی کمیشن کی سلامتی پالیسی کی نائب صدر کایہ کالس اسلام آباد کا دورہ کریں گی۔

نجی ٹی وی چینل کےمطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کایہ کالس 31 مئی کو اسلام آباد پہنچیں گی، یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کی پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

یوکرین تنازع، امریکہ اسرائیل ایران جنگ اور عالمی توانائی و اقتصادی بحران کے تناظر میں دورہ اہمیت کا حامل ہے۔

مزید پڑھیں۔بجٹ کے بعد کون سے موبائل فون سستے ہو رہے ہیں؟ اہم خبر

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی