قومی اسمبلی میں دلچسپ منظر، گرے ہوئے پیسوں کے 12 دعویدار سامنے آگئے، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک دلچسپ اور غیر معمولی صورتحال اُس وقت پیدا ہوئی جب ایوان کی نشستوں کے قریب سے ملنے والی رقم اسپیکر تک پہنچائی گئی، جس کے بعد متعدد اراکین نے اس رقم پر ملکیت کا دعویٰ کر دیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت اجلاس جاری تھا کہ کسی نے زمین پر گرے ہوئے پیسے اٹھا کر ان کے حوالے کیے۔ اسپیکر نے نوٹ ایوان میں لہراتے ہوئے اعلان کیا کہ اپوزیشن کے ایوان میں آنے سے قبل کسی رکن کے پیسے فرش پر گرے ہوئے ملے ہیں اگر اصل مالک موجود ہو تو آگاہ کرے۔
استغفرُللہ
یہ ہے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ میں موجود پارلیمنٹیرینز کی اوقات
پیسے ایک شخص کے گرے اور دعویدار 12 اراکین قومی اسمبلی pic.
— Haroon Anjum (@_Haroon79) December 8, 2025
اس اعلان کے بعد حیران کن طور پر ایوان میں موجود بارہ اراکین نے ہاتھ کھڑے کر کے پیسوں کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا۔ اس صورتحال پر اسپیکر ایاز صادق بھی مسکرا اٹھے اور کہا کہ یہ تو بارہ اراکین نے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں، پیسے اتنے نہیں ہیں جتنے لوگوں کے ہاتھ کھڑے ہو گئے ہیں جس پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے۔
سوشل میڈیا صارفین بھی اس صورتحال پر دلچسپ تبصرے کرتے نظر آئے، کسی نے کہا کہ یہ شرم کا مقام ہے کہ ہمارے نمائندے ایسے کر رہے ہیں تو کوئی یہ کہتا نظر آیا کہ ان سب نے مذاق میں ہاتھ کھڑے کیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایاز صادق ایوان ایوان میں پیسے ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایاز صادق ایوان ایوان میں پیسے ویڈیو وائرل قومی اسمبلی ایوان میں ہاتھ کھڑے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔