یلو لائن منصوبے کے کنٹریکٹر کا کےالیکٹرک کیخلاف عدالت سے رجوع
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے یلو لائن منصوبے کے کنٹریکٹر کی کے الیکٹرک کیخلاف 51 کروڑ روپے کے غیر قانونی مطالبے اور منصوبے کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق درخواست پر فریقین کو 31 اکتوبر تک حالت جوں کی توں برقرار رکھنے کی ہدایت کردی۔
ہائیکورٹ میں یلو لائن منصوبے کے کنٹریکٹر نے کے الیکٹرک کیخلاف 51 کروڑ روپے کے غیر قانونی مطالبے اور منصوبے کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ نیو جام صادق پل کی تعمیرات کے دوران کے الیکٹرک کی 11 کے وی لائن کا پول تعمیرات میں تاخیر کا باعث بن رہا تھا۔ متعدد بار رابطے کے بعد کے الیکٹرک نے پول ہٹایا۔
کے الیکٹرک نے انفراسٹرکچر کی منتقلی کے لئے 51 کروڑ روپے طلب کئے ہیں۔ کے الیکٹرک منتقلی کی رقم کی عدم ادائیگی پر پول دوبارہ اسی جگہ لگانے کی دھمکی دے رہا ہے۔
یلو لائن منصوبے کی تعمیر کے دوران کسی کو بھی رکاوٹ پیدا کرنے سے روکا جائے۔ کے الیکٹرک کو نیو جام صادق پل پر دوبارہ پول کی تنصیب سے روکا جائے۔
عدالت نے فریقین کو 31 اکتوبر تک حالت جوں کی توں برقرار رکھنے کی ہدایت کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یلو لائن منصوبے الیکٹرک کی کے الیکٹرک
پڑھیں:
امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
بھارتی ریاست کیرالہ(Kerala) سے ایک غیر معمولی اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شخص کو سرکاری نوکری کا تقرری نامہ امتحان دینے کے 21 سال بعد جاری کیا گیا، تاہم اس وقت تک وہ عمر کی قانونی حد عبور کر چکا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالمجید نے 2005 میں جونیئر عربی ٹیچر کی آسامی کے لیے امتحان دیا تھا۔ وہ اس امتحان میں کامیاب امیدواروں کی فہرست میں بھی شامل تھے، تاہم اس وقت انہیں تقرری نہیں مل سکی۔ سرکاری فہرست کی مدت تین سال تھی جو 2008 میں ختم ہو گئی، مگر اس دوران خالی آسامی کو پر نہیں کیا جا سکا۔
طویل عرصے تک معاملہ التوا میں رہنے کے بعد 24 اپریل 2026 کو اچانک عبدالمجید کو تقرری نامہ جاری کر دیا گیا۔ لیکن چونکہ اس وقت تک ان کی عمر 60 سال ہو چکی تھی، اس لیے وہ سرکاری ملازمت کے لیے قانونی طور پر اہل نہیں رہے اور ملازمت سنبھال نہیں سکے۔
یہ صورتحال نہ صرف ایک فرد کے لیے مایوسی کا باعث بنی بلکہ سرکاری نظام کی سست روی اور انتظامی تاخیر پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عبدالمجید کا کہنا ہے کہ اگر انہیں بروقت تقرری مل جاتی تو وہ برسوں پہلے اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہوتے اور ان کا کیریئر مختلف ہوتا۔
مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
مزید دلچسپ اور متنازع پہلو اس وقت سامنے آیا جب ان کے تعلیمی ریکارڈ میں تاریخ پیدائش 27 مئی 1966 درج ہے، جبکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی اصل تاریخ پیدائش 27 مئی 1967 ہے۔ ان کے مطابق اگر سرکاری ریکارڈ میں ایک سال کی درستگی کر دی جائے تو وہ اب بھی ملازمت کے اہل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس حوالے سے ریاستی وزیر تعلیم اور قانونی ماہرین کو باضابطہ درخواستیں بھی جمع کروائی ہیں، جن میں انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے سرکاری نظام میں طویل تاخیر اور انتظامی ناکامی پر تنقید کی ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے متاثرہ شخص سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔