میٹرک کے امتحانات کی جانچ ای مارکنگ کے ذریعے کی جائے گی: ناظم امتحانات
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
---فائل فوٹو
میٹرک بورڈ کراچی کے ناظم امتحانات پروفیسر ڈاکٹر حمزہ خان تگڑ نے کہا ہے کہ میٹرک کے سالانہ امتحانات 2026ء میں نویں جماعت کے مضامین کی جانچ دستی نہیں بلکہ سارے مضامین کی جانچ ای مارکنگ کے ذریعے کی جائے گی۔
’جنگ‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر حمزہ خان تگڑ نے بتایا کہ نویں جماعت کے تمام مضامین جبکہ دسویں جماعت کے حیاتیات اور کمپیوٹر کی ای مارکنگ شروع کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین بورڈ غلام حسین سہو کی ہدایت پر امتحانی نظام کو او لیول کے طرز پر کرنے کےلیے ہم شارٹ نوٹس اور ایم سی کیوز کو بڑھائیں گے اور اِن کا حصہ 50 فیصد پر جبکہ باقی 50 فیصد کے تفصیلی جوابات ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے امتحانی مراکز کے بجائے ہم بیٹری امتحانی مراکز بنائیں گے جہاں 500 سے ایک ہزار امیدوار امتحان دے سکیں گے۔
اِن کا کہنا تھا کہ 2026ء میں نویں اور دسویں کے امتحانات مارچ کے آخری ہفتے میں منعقد ہوں گے جبکہ ہم موسم گرما کی تعطیلات میں جون یا جولائی میں نویں اور دسویں جماعت کے نتائج کا اعلان کردیں گے۔
پروفیسر ڈاکٹر حمزہ خان تگڑ نے یہ بھی کہا کہ 2025ء کے ضمنی یا پارٹ 2 امتحانات 8 نومبر سے لیں گے جو 30 نومبر تک جاری رہیں گے جبکہ چیئرمین کی ہدایات پر امتحانات کے نتائج کا اعلان محض 15 روز میں یعنی دسمبر میں کردیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جماعت کے
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔