اسمارٹ فون کے حد سے زیادہ استعمال کو روکنے والا نیا کیس متعارف
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیورو سائنس سے وابستہ ایک کمپنی نے ایسا منفرد اسمارٹ فون کیس تیار کیا ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ صارفین کا اسکرین ٹائم تقریباً نصف تک کم کر سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ فون کیس 6 پاؤنڈ (یعنی 2.
اسٹین لیس اسٹیل سے تیار کردہ یہ کیس 16 انچ میک بک پرو لیپ ٹاپ سے بھی زیادہ بھاری ہے۔ اسے دو دھاتی حصوں میں تیار کیا گیا ہے جنہیں فون کے گرد اسکرو کے ذریعے جوڑا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کیس 1980ء کی دہائی کے بلیک ڈائمنڈ فون سے متاثر ہو کر ڈیزائن کیا گیا ہے، جو کسی جیب میں سما نہیں سکتا۔ کمپنی کے مطابق جتنا زیادہ کوئی صارف فون استعمال کرے گا، اتنا ہی اسے جسمانی طور پر تھکاوٹ محسوس ہوگی، جو بالآخر فون کو نیچے رکھنے پر مجبور کر دے گی — اور اگر کوئی ورزش کا شوقین ہے تو اسے بطور ڈمبل بھی استعمال کر سکتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس بھاری کیس کے استعمال سے پٹھے بھی مضبوط ہوں گے۔ تاہم، اسے فون سے ہٹانا آسان نہیں، کیونکہ اس کے لیے رنچ کی ضرورت پڑتی ہے، جس سے صارفین ایک بار لگانے کے بعد اسے ہٹانے سے گریز کرتے ہیں۔
یہ انوکھا اسمارٹ فون کیس فی الحال فنڈنگ کے مرحلے میں ہے اور 210 ڈالرز میں پری آرڈر کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی نے اس کا پیتل کا ورژن بھی تیار کیا ہے جو مزید بھاری اور مہنگا ہے، جس کی قیمت 500 ڈالرز رکھی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فون کیس
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔