پاکستانی تاریخ کا نیا باب، پہلا خلا باز 2026 میں خلا میں قدم رکھے گا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اگلے سال 2026 میں اپنا پہلا خلا باز خلا میں بھیجے گا، جس کے ساتھ ہی ملک خلائی تحقیق کے نئے دور میں داخل ہو جائے گا۔
انہوں نے یہ اعلان ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ اور کمرشل سیٹلائٹ کے افتتاحی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
احسن اقبال نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی اس کی خلائی ٹیکنالوجی تک رسائی پر منحصر ہوتی ہے، اور پاکستان نے اس شعبے میں نمایاں پیشرفت حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان نے اپنے چار سیارے خلا میں بھیجے ہیں جبکہ اب ملک انٹرنیٹ سروس کی خود مختار صلاحیت بھی حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فائبر، 5 جی اور کمرشل سیٹلائٹ کے امتزاج سے “جڑا ہوا پاکستان” حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ “ای پاکستان” صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ جدید ڈیجیٹل معیشت اور بہتر گورننس کی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا ہدف ہے کہ ملک کے ہر حصے کے نوجوانوں کو عالمی ڈیجیٹل دنیا سے جوڑا جائے، اور ہر اسکول، کالج اور صحت مرکز کو براڈ بینڈ انٹرنیٹ سے منسلک کیا جائے۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ اب محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ حکومت تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی ہر شہری تک یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے، اور اس مقصد کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ دور دراز علاقوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پہلا خلا باز خلا میں بھیجنا محض ایک سائنسی کامیابی نہیں بلکہ قوم کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہوگا، جو یہ ثابت کرے گا کہ پاکستان بھی ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق کی عالمی صف میں قدم جما رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔