Daily Mumtaz:
2026-06-03@05:40:07 GMT

چینی مزید مہنگی، فی کلو قیمت 210 روپے تک جا پہنچی

اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT

چینی مزید مہنگی، فی کلو قیمت 210 روپے تک جا پہنچی

ملک بھر میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ نہ رک سکا۔ حکومتی اقدامات اور مانیٹرنگ کے باوجود گزشتہ ایک ہفتے کے دوران چینی مزید مہنگی ہوگئی، جس کے بعد ملک میں فی کلو چینی کی زیادہ سے زیادہ قیمت210 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ادارہ شماریات پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران چینی کی فی کلو قیمت میں اوسطاً 3 روپے 77 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پشاور میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے، جہاں چینی کی فی کلو قیمت10 روپے بڑھ کر 210 روپے تک پہنچ گئی ہے — جو پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان اور بنوں میں چینی 200 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، جبکہ کراچی میں قیمت 195 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں چینی کی اوسط فی کلو قیمت 188 روپے 81 پیسے ہے، جو گزشتہ ہفتے 185 روپے 4 پیسے تھی۔ حیرت انگیز طور پر ایک سال قبل یہی چینی اوسطاً 134 روپے 8 پیسے فی کلو میں دستیاب تھی — یعنی صرف ایک سال میں قیمت میں50 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نہ صرف سپلائی چین میں بے ضابطگیوں بلکہ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کا نتیجہ ہے، جبکہ حکومتی سطح پر کیے جانے والے اقدامات ابھی تک خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: فی کلو قیمت چینی کی

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار