فیول ایڈجسٹمنٹ :ستمبر کی بجلی 36 پیسے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251030-08-7
اسلام آباد ( آن لائن )ستمبر کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 36 پیسے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان ہے۔ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی درخواست پر نیپرا میں سماعت ممبر پنجاب آمنہ احمد کی سربراہی میں ہوئی۔سی پی پی اے کے مطابق، ستمبر میں بجلی کی قیمت میں 37 پیسے فی یونٹ کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔سماعت کے دوران بتایا گیا کہ اکتوبر میں صارفین کو 8 پیسے فی یونٹ کمی پہلے ہی دی جا چکی ہے، جب کہ ستمبر کی ایڈجسٹمنٹ کی منظوری کی صورت میں ملک بھر کے صارفین کو ساڑھے 4 ارب روپے کا ریلیف ملے گا۔سی پی پی اے حکام نے وضاحت کی کہ بجلی کی اعلیٰ قیمتوں کے باعث صنعتی شعبے میں کھپت کم رہی، اسی وجہ سے حکومت صنعتوں کو خصوصی پیکیج دے رہی ہے تاکہ کھپت میں اضافہ کیا جا سکے۔مزید بتایا گیا کہ سولرائزیشن کے باعث دن کے وقت بجلی کی کھپت 15 ہزار میگاواٹ رہی، جب کہ رات کے اوقات میں کھپت 21 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی۔سولر توانائی کے استعمال سے دن کے اوقات میں 6 ہزار میگاواٹ کم بجلی استعمال ہوئی۔ نیشنل پاور کنٹرول کمپنی کے مطابق، ستمبر میں پن بجلی کی پیداوار 8 ہزار میگاواٹ کے تخمینے کے مقابلے میں صرف 4 ہزار میگاواٹ رہی، جس کے باعث فرنس آئل پاور پلانٹس کو زیادہ استعمال کرنا پڑا۔گزشتہ ماہ کے مقابلے میں فرنس آئل پلانٹس 6 فیصد زیادہ چلے ، تاہم انہیں صرف پیک آورز کے دوران استعمال کیا گیا۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ آر ایل این جی پاور پلانٹس میں عارضی بندش کے باعث بھی فرنس آئل پلانٹس کو متبادل کے طور پر چلانا پڑا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہزار میگاواٹ پیسے فی یونٹ سی پی پی اے بجلی کی کے باعث
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔