وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کی طالبا کو اپنی نشست پر بیٹھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ہونے والی پرائم منسٹر یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کی افتتاحی تقریب میں بلوچستان کی طالبا کو اپنی نشست پر بیٹھا دیا۔
اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں بلوچستان کے ضلع نوشکی سے تعلق رکھنے والی میڈیکل کی طالبا بی بی درجان نے شرکت کی اور انہوں نے اپنے صوبے کی بھرپور نمائندگی کی۔
بی بی درجان نے بتایا کہ انہیں 2023 میں اُس وقت لیپ ٹاپ ملا جب اُن کا بولان میڈیکل یونیورسٹی میں فزیو تھراپی کی تعلیم کیلیے داخلہ لیا۔
بی بی درجان نے کہا کہ یوتھ لیپ اسکیم سے مجھے 2023 میں لیپ ٹاپ ملا جس کی مدد سے مجھے تعلیمی میدان میں بہت زیادہ مدد ملی، وزیراعظم نے اس بات کو ثابت کردیا کہ صرف تعلیم نہیں بلکہ سازو سامان میسر ہو تو بلوچستان کی بچیاں ہر جگہ نام روشن کرسکتی ہیں۔
بلوچستان کی بی بی درجان نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج مجھے جب وزیراعظم کی نشست کے قریب جگہ ملی تو میں خود حیران رہ گئی کہ بلوچستان کی بیٹی وزیراعظم کے قریب بیٹھی ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم اور حال میں موجود شرکا نے کھڑے ہوکر بی بی درجان کیلیے تالیاں بجائیں جبکہ وہ اسٹیج سے واپس آئیں تو وزیراعظم نے انہیں شاباش دیتے ہوئے اپنی نشست پر بیٹھا دیا۔
وزیراعظم کی جانب سے محبت اور شفقت ملنے پر بی بی درجان فرط جذبات پر قابو نہیں رکھ سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلوچستان کی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔