data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیجنگ: چین کے سائنس دانوں نے حالیہ تحقیق میں ایک ایسے قدیم شہابِ ثاقب کے گرنے کی تصدیق کی ہے جس نے تقریباً 10 ہزار سال قبل جنوبی چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ میں زمین پر تباہ کن اثرات چھوڑے تھے۔

ماہرین کے مطابق اس شہابِ ثاقب کے ٹکرانے سے جو توانائی خارج ہوئی وہ ہیروشیما پر گرائے گئے 40 ایٹم بموں کے برابر تھی۔ اس زبردست دھماکے سے زمین میں ایک نمایاں گڑھا وجود میں آیا، جسے اب جنلِن کریٹر (Junlin Crater) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ گڑھا صوبہ ژاؤ چنگ کے قریب واقع ہے اور چین میں دریافت ہونے والا پانچواں تصدیق شدہ شہابی پتھر کا مقام قرار دیا گیا ہے، تاہم جنوبی چین میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا ہے۔

سائنسی اعداد  شمار کے مطابق جنلن کریٹر کا قطر تقریباً 2950 فٹ ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ شہابِ ثاقب کے ٹکراؤ کی شدت کتنی غیر معمولی تھی۔ اس تصادم نے نہ صرف زمین کی ساخت کو بدل دیا بلکہ اردگرد کے ماحولیاتی نظام پر بھی دیرپا اثرات چھوڑے۔

یہ تحقیق بین الاقوامی سائنسی جریدے میٹر اینڈ ریڈی ایشن ایٹ ایکسٹریمز میں شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا کہ اس گڑھے کی تشکیل ایک بڑی کائناتی بولائیڈ امپیکٹ (bolide impact) کے نتیجے میں ہوئی۔

چین کے سینٹر فار ہائی پریشر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ محقق چن منگ کے مطابق اس ٹکراؤ سے تقریباً 600,000 ٹن TNT کے برابر توانائی خارج ہوئی، جو زمین پر زندگی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے اس زمانے کے ماحولیاتی حالات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اس تصادم سے خطے میں موسمی تغیرات، زمینی درجہ حرارت میں تبدیلی اور مقامی حیاتی نظام میں خلل پیدا ہوا۔

سائنسی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات زمین کی تاریخ میں نایاب ہیں لیکن یہ ظاہر کرتے ہیں کہ آسمانی اجسام کا زمین سے ٹکراؤ انسانی تمدن سے پہلے بھی قدرتی نظاموں کو گہرے اثرات دے چکا ہے۔

یہ دریافت نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کے ماہرینِ ارضیات کے لیے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے زمین پر کائناتی اثرات کی تاریخ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اس واقعے نے یہ بھی واضح کر دیا کہ زمین اب بھی ایسے خطرات سے محفوظ نہیں اور جدید سائنسی نگرانی کا نظام مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ممکنہ خلائی خطرات سے پیشگی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ

سٹی 42 : سیالکوٹ میں  ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح میں ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا۔ 

   ہیڈ مرالہ میں مجموعی پانی کی آمد 1 لاکھ 95 ہزار 857 کیوسک، ہے ۔دریائے چناب میں اخراج 1 لاکھ 80 ہزار 356 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ۔ 

جموں توی میں 11 ہزار 868  کیوسک جبکہ مناور توی میں 5 ہزار 747 کیوسک پانی ریکارڈ  کیا گیا ۔ دریائے چناب میں  بہاؤ 1 لاکھ 74 ہزار 441 کیوسک ہے ۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

متعلقہ مضامین

  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن