چین پر 10 ہزار سال قبل گرنے والا شہابِ ثاقب 40 ایٹم بموں کے برابر نکلا
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ: چین کے سائنس دانوں نے حالیہ تحقیق میں ایک ایسے قدیم شہابِ ثاقب کے گرنے کی تصدیق کی ہے جس نے تقریباً 10 ہزار سال قبل جنوبی چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ میں زمین پر تباہ کن اثرات چھوڑے تھے۔
ماہرین کے مطابق اس شہابِ ثاقب کے ٹکرانے سے جو توانائی خارج ہوئی وہ ہیروشیما پر گرائے گئے 40 ایٹم بموں کے برابر تھی۔ اس زبردست دھماکے سے زمین میں ایک نمایاں گڑھا وجود میں آیا، جسے اب جنلِن کریٹر (Junlin Crater) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یہ گڑھا صوبہ ژاؤ چنگ کے قریب واقع ہے اور چین میں دریافت ہونے والا پانچواں تصدیق شدہ شہابی پتھر کا مقام قرار دیا گیا ہے، تاہم جنوبی چین میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا ہے۔
سائنسی اعداد شمار کے مطابق جنلن کریٹر کا قطر تقریباً 2950 فٹ ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ شہابِ ثاقب کے ٹکراؤ کی شدت کتنی غیر معمولی تھی۔ اس تصادم نے نہ صرف زمین کی ساخت کو بدل دیا بلکہ اردگرد کے ماحولیاتی نظام پر بھی دیرپا اثرات چھوڑے۔
یہ تحقیق بین الاقوامی سائنسی جریدے میٹر اینڈ ریڈی ایشن ایٹ ایکسٹریمز میں شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا کہ اس گڑھے کی تشکیل ایک بڑی کائناتی بولائیڈ امپیکٹ (bolide impact) کے نتیجے میں ہوئی۔
چین کے سینٹر فار ہائی پریشر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ محقق چن منگ کے مطابق اس ٹکراؤ سے تقریباً 600,000 ٹن TNT کے برابر توانائی خارج ہوئی، جو زمین پر زندگی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے اس زمانے کے ماحولیاتی حالات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اس تصادم سے خطے میں موسمی تغیرات، زمینی درجہ حرارت میں تبدیلی اور مقامی حیاتی نظام میں خلل پیدا ہوا۔
سائنسی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات زمین کی تاریخ میں نایاب ہیں لیکن یہ ظاہر کرتے ہیں کہ آسمانی اجسام کا زمین سے ٹکراؤ انسانی تمدن سے پہلے بھی قدرتی نظاموں کو گہرے اثرات دے چکا ہے۔
یہ دریافت نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کے ماہرینِ ارضیات کے لیے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے زمین پر کائناتی اثرات کی تاریخ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اس واقعے نے یہ بھی واضح کر دیا کہ زمین اب بھی ایسے خطرات سے محفوظ نہیں اور جدید سائنسی نگرانی کا نظام مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ممکنہ خلائی خطرات سے پیشگی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
ملک بھر میں فی تولہ سونےکی قیمت میں 4600 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک تولہ سونا 4600 روپے اضافے کے بعد اب 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ10گرام سونے کی قیمت3944 روپےبڑھ کر 4 لاکھ8 ہزار 403 روپے ہوگئی ہے۔عالمی بازار میں سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس ہے۔