وبائی امراض سندھ میں بے قابو، حکومتِ سندھ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، سردار عبدالرحیم
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
ایک بیان میں رہنما فنکشنل لیگ نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ حکومت مچھر مار اسپرے جیسے بنیادی اقدامات بھی مؤثر انداز میں کرنے سے قاصر ہے، بلکہ جہاں اسپرے کیا جاتا ہے وہاں جعلی اور غیر معیاری ادویات استعمال کی جا رہی ہیں، جن کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکریٹری جنرل سردار عبدالرحیم نے اپنے ایک سخت ردِعمل میں کہا ہے کہ کراچی سمیت سندھ کے بیشتر اضلاع میں ڈینگی بخار، ہیضہ، موشن، الٹیاں، ملیریا اور چمڑی کی خارش جیسے امراض نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے، روزانہ درجنوں افراد متاثر ہو رہے ہیں جبکہ متعدد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، مگر حکومتِ سندھ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے سرکاری اسپتالوں کی حالت زار انتہائی افسوسناک ہے، بیشتر اسپتالوں میں آکسیجن سلنڈرز دستیاب نہیں، ایمبولینسیں ناکارہ پڑی ہیں اور ادویات کی شدید قلت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غریب مریضوں کو سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت نہیں مل رہی جبکہ وہی دوائیں باہر میڈیکل اسٹوروں پر مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں۔ سردار عبدالرحیم نے مزید کہا کہ کتے اور سانپ کے کاٹنے کی ویکسین تک اسپتالوں میں ناپید ہو چکی ہے، جس سے عوام کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں، افسوس کی بات ہے کہ حکومت مچھر مار اسپرے جیسے بنیادی اقدامات بھی مؤثر انداز میں کرنے سے قاصر ہے، بلکہ جہاں اسپرے کیا جاتا ہے وہاں جعلی اور غیر معیاری ادویات استعمال کی جا رہی ہیں، جن کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔