انفرا اسٹرکچر تباہ، سندھ حکومت بھاری ای چالان میں لگی ہے، منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
ممبرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت بلدیاتی اداروں کے اختیارات و وسائل نچلی سطح پر منتقل کرنے کو تیار نہیں، ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے اور سندھ کے بجٹ کا 95 فیصد حصہ فراہم کرنے والے شہر کے عوام اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کا شکار اور آدھا شہر پینے کے پانی سے محروم ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے کراچی کو سونے کی چڑیا سمجھ رکھا ہے، کراچی سے وسائل تو لیتی ہے اہل کراچی کے مسائل حل نہیں کرتی۔ ملیر کالا بورڈ پر ممبرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت بلدیاتی اداروں کے اختیارات و وسائل نچلی سطح پر منتقل کرنے کو تیار نہیں، ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے اور سندھ کے بجٹ کا 95 فیصد حصہ فراہم کرنے والے شہر کے عوام اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کا شکار اور آدھا شہر پینے کے پانی سے محروم ہے، انفرا اسٹرکچر تباہ حال اور سندھ حکومت بھاری ای چالان کرنے میں لگی ہوئی ہے، پنجاب میں جو چالان 200 روپے کا ہے سندھ حکومت نے کراچی میں 5000 روپے کا کر دیا ہے، اجتماعی جدوجہد کے ذریعے ہی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سندھ حکومت
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔