data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رسولؐ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ ؐ خوش الحانی کو بہت پسند فرماتے تھے اور خوش الحان قاریوں کی تلاوت فرمائش کرکے سنتے تھے۔ حضوؐر کو خوش الحانی کتنی پسند تھی‘ اِس کا اندازہ اِن احادیث سے لگایا جاسکتا ہے:
ابوموسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ نے اِن سے فرمایا: ’’تجھے اٰل داؤد کے لحن سے خوش الحانی کا ایک حصہ عطا ہوا ہے‘‘ (متفق علیہ)۔ مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ رسولؐ نے اُن سے فرمایا: ’’اگر تم مجھے گزشتہ رات دیکھتے جب میں تمھارا قرآن سن رہا تھا (تو بہت خوش ہوتے)‘‘ (مسلم)۔
روایات میں آتا ہے کہ نبی مہربانؐ صحابہؓ سے حسن الصّوت سے تلاوت سماعت فرماتے تھے۔ عبداللہ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ رسولؐ نے اِن سے فرمایا کہ ’مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ میں نے تعجب سے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں‘ اور آپؐ کو قرآن سناؤں؟ آپؐ پر تو قرآن نازل ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’مجھے دوسروں سے سننا اچھا لگتا ہے‘‘۔ چنانچہ میں نے سورۂ نساء آپؐ کو سنائی اور جب میں آیت فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ … الخ پر پہنچا تو آپؐ نے فرمایا: بس کافی ہے۔ تب میں نے آپؐ کی طرف دیکھا تو آپؐ کی آنکھوں سے آنسوؤں کے موتی گر رہے تھے (متفق علیہ)۔
حضوؐر خود بھی نہایت خوش الحانی سے تلاوت فرماتے تھے۔ ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسولؐ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کسی آواز کی طرف اتنا متوجہ نہیں ہوتا جتنا نبیؐ کی خوش الحانی اور بلند آواز سے قرآن پڑھنے پر متوجہ ہوتا ہے‘‘ (متفق علیہ)۔
براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ ’’میں نے رسولؐ کو عشاء کی نماز میں والتِّیْن پڑھتے سنا (تو اُس وقت کی کیفیت بتا نہیں سکتا)۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے تو ایسی خوش الحانی کبھی نہیں سنی تھی‘‘ (بخاری، باب قول النّبیؐ)۔
اِن احادیث کا مقصد یہ ہے کہ حضوؐر کو اچھی آوازوں میں تلاوت سننا بہت پسند تھا اور آپؐ خود بھی انتہائی خوب صورت آواز میں قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تھے۔ اس لیے قرآن مجید کو اچھی آواز اور اچھی ادایگی سے پڑھنا چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خوش نودی اور رضا کا باعث بھی ہوگی اور دنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہوگی۔
ابوہریرہؓ سے روایت ہے‘ رسولؐ نے فرمایا: ’’قرآن کو ٹھیر ٹھیر کر صاف صاف پڑھو اور اِس کے غرائب پر عمل کرو۔ غرائب سے مراد اوامر اور نواہی ہیں‘‘ (مشکٰوۃ، باب فضائل القراٰن،فصل الثالث بحوالہ بیہقی)۔ غرائب‘ یعنی حلال وحرام پر نظر رکھو، قرآن نے جن چیزوں کو حلال کیا ہے اُنھیں حلال جانو اور جن چیزوں کو حرام کیا ہے اُن کو حرام سمجھتے ہوئے بچو۔ اِس حدیث میں دو احکام دیے گئے ہیں: پہلا حکم قرآن مجید کو تجوید سے پڑھنے کا اور دوسرا حکم قرآن حکیم کو تفسیر سے پڑھنے کا۔
تجوید القرآن کے حوالے سے تقریباً ایک سو سے زائد احادیث وارد ہیں۔ یہاں صرف تذکیر کے لیے چند بطور مثال پیش کی گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خوش الحانی فرماتے تھے ہیں کہ
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔