Jasarat News:
2026-07-24@01:29:27 GMT

خوش الحانی

اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

رسولؐ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ ؐ خوش الحانی کو بہت پسند فرماتے تھے اور خوش الحان قاریوں کی تلاوت فرمائش کرکے سنتے تھے۔ حضوؐر کو خوش الحانی کتنی پسند تھی‘ اِس کا اندازہ اِن احادیث سے لگایا جاسکتا ہے:
ابوموسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ نے اِن سے فرمایا: ’’تجھے اٰل داؤد کے لحن سے خوش الحانی کا ایک حصہ عطا ہوا ہے‘‘ (متفق علیہ)۔ مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ رسولؐ نے اُن سے فرمایا: ’’اگر تم مجھے گزشتہ رات دیکھتے جب میں تمھارا قرآن سن رہا تھا (تو بہت خوش ہوتے)‘‘ (مسلم)۔
روایات میں آتا ہے کہ نبی مہربانؐ صحابہؓ سے حسن الصّوت سے تلاوت سماعت فرماتے تھے۔ عبداللہ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ رسولؐ نے اِن سے فرمایا کہ ’مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ میں نے تعجب سے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں‘ اور آپؐ کو قرآن سناؤں؟ آپؐ پر تو قرآن نازل ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’مجھے دوسروں سے سننا اچھا لگتا ہے‘‘۔ چنانچہ میں نے سورۂ نساء آپؐ کو سنائی اور جب میں آیت فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ … الخ پر پہنچا تو آپؐ نے فرمایا: بس کافی ہے۔ تب میں نے آپؐ کی طرف دیکھا تو آپؐ کی آنکھوں سے آنسوؤں کے موتی گر رہے تھے (متفق علیہ)۔
حضوؐر خود بھی نہایت خوش الحانی سے تلاوت فرماتے تھے۔ ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسولؐ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کسی آواز کی طرف اتنا متوجہ نہیں ہوتا جتنا نبیؐ کی خوش الحانی اور بلند آواز سے قرآن پڑھنے پر متوجہ ہوتا ہے‘‘ (متفق علیہ)۔
براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ ’’میں نے رسولؐ کو عشاء کی نماز میں والتِّیْن پڑھتے سنا (تو اُس وقت کی کیفیت بتا نہیں سکتا)۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے تو ایسی خوش الحانی کبھی نہیں سنی تھی‘‘ (بخاری، باب قول النّبیؐ)۔
اِن احادیث کا مقصد یہ ہے کہ حضوؐر کو اچھی آوازوں میں تلاوت سننا بہت پسند تھا اور آپؐ خود بھی انتہائی خوب صورت آواز میں قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تھے۔ اس لیے قرآن مجید کو اچھی آواز اور اچھی ادایگی سے پڑھنا چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خوش نودی اور رضا کا باعث بھی ہوگی اور دنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہوگی۔
ابوہریرہؓ سے روایت ہے‘ رسولؐ نے فرمایا: ’’قرآن کو ٹھیر ٹھیر کر صاف صاف پڑھو اور اِس کے غرائب پر عمل کرو۔ غرائب سے مراد اوامر اور نواہی ہیں‘‘ (مشکٰوۃ، باب فضائل القراٰن،فصل الثالث بحوالہ بیہقی)۔ غرائب‘ یعنی حلال وحرام پر نظر رکھو، قرآن نے جن چیزوں کو حلال کیا ہے اُنھیں حلال جانو اور جن چیزوں کو حرام کیا ہے اُن کو حرام سمجھتے ہوئے بچو۔ اِس حدیث میں دو احکام دیے گئے ہیں: پہلا حکم قرآن مجید کو تجوید سے پڑھنے کا اور دوسرا حکم قرآن حکیم کو تفسیر سے پڑھنے کا۔
تجوید القرآن کے حوالے سے تقریباً ایک سو سے زائد احادیث وارد ہیں۔ یہاں صرف تذکیر کے لیے چند بطور مثال پیش کی گئی ہیں۔

مولانا قاری ہدایت اللہ خان گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خوش الحانی فرماتے تھے ہیں کہ

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین