مشرقی بحیرہ عرب میں موجود ڈپریشن کے حوالے سے محکمہ موسمیات کا چوتھا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
کراچی:
مشرقی بحیرہ عرب میں موجود ڈپریشن کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے چوتھا ٹروپیکل سائیکلون واچ جاری کردیا۔
مشرقی بحیرہ عرب کا دباؤ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شمال/ شمال مغرب کی طرف بڑھا، دباؤ کراچی سے تقریباً 1004 کلومیٹر جنوب، جنوب مشرق میں موجود ہے۔
ڈپریشن کا ممبئی (انڈیا) سے فاصلہ جنوب مغرب میں 400 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے، دباؤ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران بحیرہ عرب میں مشرق وسطیٰ کی طرف بڑھنے کا امکان ہے۔
فی الحال پاکستان کے کسی ساحلی علاقے کو کوئی خطرہ نہیں ہے، پی ایم ڈی کے سائیکلون وارننگ سینٹرکراچی اس سسٹم کی نگرانی کررہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔