’جب بلیو ہونڈا سوک کی جگہ بندوق تھامے شخص آگیا‘
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
اسلام آباد کی رہائشی رمشا تبسم کے لیے چند ہفتے قبل کی ایک رات ان کی زندگی کا سب سے خوفناک لمحہ ثابت ہوئی، وہ محض ایک معمولی سی رائیڈ بُک کر رہی تھیں، مگر انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ چند منٹوں میں ایک ایسے خطرناک تجربے سے گزریں گی جس نے ان پر گہرا نفسیاتی اثر چھوڑ دیا۔
رمشا تبسم نے بتایا ’میں نے ایک بلیو ہونڈا سوک بُک کروائی تھی۔ جیسے ہی میں اپنے پک پوائنٹ پر پہنچی تو ایک گاڑی پہلے سے کھڑی تھی۔ اُس کا ڈبل انڈیکیٹر آن تھا، لیکن وہ وہ والی گاڑی نہیں تھی جو میں نے ایپ پر دیکھی تھی۔‘
یہ بھی پڑھیں: آن لائن ٹیکسی سروس کریم کے بائیکاٹ کی مہم کیوں چل رہی ہے؟
انہیں کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔ کہتی ہیں کہ انہوں نے ڈرائیور سے پوچھا: ’یہ وہی گاڑی نہیں جو میں نے بُک کی تھی، چینج کیوں ہے؟‘
ڈرائیور نے فوراً جواب دیا کہ ایپ پر گاڑی کی اپ ڈیٹ ابھی نہیں ہوئی، نئی پالیسی کے تحت رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ رمشا تبسم نے کہا کہ چونکہ ڈرائیور کا نام اور تفصیل تقریباً ایک جیسی تھی، اس لیے وہ مطمئن ہوکر بیٹھ گئیں۔
گاڑی اسلام آباد کے علاقے آئی ایٹ مرکز کی طرف روانہ ہوئی۔ راستے میں سب کچھ معمول کے مطابق لگ رہا تھا۔ مگر جیسے ہی گاڑی ایک نسبتاً سنسان اور اندھیرے مقام پر رکی، حالات اچانک بدل گئے۔
رمشا بتاتی ہیں کہ جیسے ہی گاڑی رکی، اُس نے ہینڈ بریک کے ساتھ سے گن نکالی اور مجھ پر تان دی اُس نے کہا ’پرس میں جو کچھ ہے نکالو۔‘
یہ بھی پڑھیں: بائیکیا رائیڈر کے روپ میں 25 وارداتیں کرنے والا ڈکیت گرفتار
اُن کے مطابق اُس لمحے خوف نے انہیں مفلوج کردیا۔ ہاتھ میں موجود موبائل کی لائٹ آن کی تو ایک چونکانے والا انکشاف ہوا۔
’مجھے اندازہ ہوا کہ یہ تو وہ ڈرائیور بھی نہیں تھا جس کی ڈیٹیل ایپ پر تھی۔ گاڑی تو پہلے ہی چینج تھی اور اب وہ ڈرائیور بھی وہ نہیں تھا۔‘
خوف اور گھبراہٹ کے عالم میں انہوں نے شور مچانے کی کوشش کی مگر اردگرد اندھیرا اور سنّاٹا تھا۔ خوش قسمتی سے ایک راہ گیر موٹر سائیکل سوار وہاں سے گزرا، جس کی ہیڈ لائٹس دیکھ کر حملہ آور گھبرا گیا اور موقع سے فرار ہوگیا۔ رمشا تبسم نے اسی وقت پولیس سے رابطہ کیا۔
تاہم، ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارروائی توقعات کے برعکس تھی۔ ’میں نے 2 بار تھانے جا کر شکایت درج کروانے کی کوشش کی مگر انہوں نے کہا کہ ’ہم دیکھتے ہیں‘ اور کوئی خاص کارروائی نہیں ہوئی۔‘
یہ واقعہ نہ صرف ان کے لیے صدمے کا باعث بنا بلکہ اُن تمام خواتین کے لیے تشویش کی علامت ہے جو روزانہ آن لائن رائیڈنگ ایپس استعمال کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ;یوں لگا جیسے جرم کررہی ہوں، بائیکیا استعمال کرنے والی خواتین کو کس بات نے رلا دیا
اس حوالے سے اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی ڈاکٹر محمد اقبال نے بتایا کہ شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
کہتے ہیں کہ ’ہم نے تمام موبائل ٹرانسپورٹ کمپنیوں، جیسے یینگو، ان ڈرائیو اور بائیکیا کے ساتھ میٹنگز کی ہیں۔ پولیس نے ہر ٹیکسی پر ایک کیو آر کوڈ لگانے کا عمل شروع کیا ہے، جسے شہری ہمارے ’ٹی وی ایس ایپ‘ یعنی ٹیکسی ویری فکیشن ایپ کے ذریعے اسکین کرسکتے ہیں۔ جب آپ یہ کوڈ اسکین کرتے ہیں تو گاڑی اور ڈرائیور کی مکمل تفصیل سامنے آ جاتی ہے۔ ہم شہریوں سے گزارش کرتے ہیں کہ رائیڈ میں بیٹھنے سے پہلے یہ کوڈ لازمی اسکین کریں تاکہ فراڈ سے بچا جا سکے۔‘
ماہرِ سوشل سیفٹی سعدیہ قریشی کے مطابق ’پاکستان میں آن لائن ٹرانسپورٹ سروسز نے خواتین کو سہولت تو دی ہے لیکن سیکیورٹی کے اعتبار سے نظام ابھی بھی کمزور ہے۔ ایپ کمپنیاں اکثر ویریفکیشن اور مانیٹرنگ میں لاپرواہی برتتی ہیں، جس کے نتیجے میں ایسے واقعات بڑھ رہے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: گن پوائنٹ پر وارداتیں: کیا اسلام آباد بھی اب کراچی جیسا ہو گیا ہے؟
سائبر اور ٹرانسپورٹ سیکیورٹی ماہر احمد وقار کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیسز میں مجرم اکثر جعلی شناختوں کے ذریعے اکاؤنٹس بناتے ہیں۔
’ایپ کمپنیوں کو چاہیے کہ گاڑی اور ڈرائیور کی تبدیلی کی صورت میں صارف کو فوری الرٹ دیا جائے، اور بغیر ویریفکیشن رائیڈ شروع ہی نہ ہو۔‘
رمشا کہتی ہیں کہ وہ اس واقعے کے بعد اتنا گھبرا چکی ہیں کہ اب وہ ہر رائیڈ بُک کروانے سے پہلے ہزار بار سوچتی ہیں۔
’اب جب بھی ایپ کھولتی ہوں تو دل میں خوف سا بیٹھ جاتا ہے۔ میں ہر نمبر، ہر تفصیل چیک کرتی ہوں، کیونکہ ایک بار جو خوف محسوس ہو جائے، وہ آسانی سے نہیں جاتا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسلام اباد آن لائن ٹیکسی ایپ پاکستان پولیس خواتین ڈکیتی ہونڈا سوک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد ا ن لائن ٹیکسی ایپ پاکستان پولیس خواتین ڈکیتی ہونڈا سوک یہ بھی پڑھیں اسلام آباد کے لیے ایپ پر ن لائن ہیں کہ
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔