اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف  کا ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست 4 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔

رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق، یہ کیس جسٹس ارباب محمد طاہر کی عدالت میں سنا جائے گا۔

عدالت نے اس مقدمے میں بانی پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ اسی طرح نیشنل سائبر کرائم ایجنسی، سپرنٹنڈنٹ جیل اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی فریق بنایا گیا ہے اور ان سے تحریری وضاحت مانگی گئی ہے۔

درخواست شہری غلام مرتضیٰ کی جانب سے ان کے وکیل بیرسٹر ظفراللہ کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے دورانِ قید ان کے ایکس اکاؤنٹ سے مبینہ طور پر اشتعال انگیز، بدنیتی پر مبنی اور انتشاری نوعیت کی پوسٹس جاری کی جا رہی ہیں، جو نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ عوامی امن کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق، چونکہ بانی پی ٹی آئی جیل میں قید ہیں، اس لیے ان کے اکاؤنٹ سے کسی بھی قسم کی سرگرمی یا پوسٹس کا ہونا مشکوک ہے۔ لہٰذا عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ان کے ایکس اکاؤنٹ کو فوری طور پر بند کیا جائے یا متعلقہ اداروں کو ہدایت دی جائے کہ وہ ان پوسٹس کو ہٹائیں اور مزید پھیلاؤ سے روکیں۔

عدالت نے ابتدائی سماعت میں درخواست قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی گئی ہے

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے