اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست سماعت کیلیے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف کا ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست 4 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔
رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق، یہ کیس جسٹس ارباب محمد طاہر کی عدالت میں سنا جائے گا۔
عدالت نے اس مقدمے میں بانی پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ اسی طرح نیشنل سائبر کرائم ایجنسی، سپرنٹنڈنٹ جیل اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی فریق بنایا گیا ہے اور ان سے تحریری وضاحت مانگی گئی ہے۔
درخواست شہری غلام مرتضیٰ کی جانب سے ان کے وکیل بیرسٹر ظفراللہ کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے دورانِ قید ان کے ایکس اکاؤنٹ سے مبینہ طور پر اشتعال انگیز، بدنیتی پر مبنی اور انتشاری نوعیت کی پوسٹس جاری کی جا رہی ہیں، جو نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ عوامی امن کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق، چونکہ بانی پی ٹی آئی جیل میں قید ہیں، اس لیے ان کے اکاؤنٹ سے کسی بھی قسم کی سرگرمی یا پوسٹس کا ہونا مشکوک ہے۔ لہٰذا عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ان کے ایکس اکاؤنٹ کو فوری طور پر بند کیا جائے یا متعلقہ اداروں کو ہدایت دی جائے کہ وہ ان پوسٹس کو ہٹائیں اور مزید پھیلاؤ سے روکیں۔
عدالت نے ابتدائی سماعت میں درخواست قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی گئی ہے
پڑھیں:
ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2026ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیرونِ ملک سے صرف ویزہ اوور سٹے یعنی ویزہ کی مقررہ مدت سے زائد قیام کی بنیاد پر ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانی شہریوں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے حکومتی عمل کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی پاکستانی شہری کسی دوسرے ملک میں محض اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے یعنی اوور سٹے کی وجہ سے پاکستان واپس ڈی پورٹ کیا جاتا ہے، تو اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنا سراسر قانون کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ محض ویزہ اوور سٹے کی بنیاد پر بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہونا کسی بھی شہری کے بیرونِ ملک سفر کرنے اور وہاں روزگار حاصل کرنے کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز ہرگز نہیں بن سکتا۔(جاری ہے)
فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت یا متعلقہ ادارے کسی بھی شہری کے سفر پر اس وقت تک پابندی عائد نہیں کر سکتے جب تک کہ اس کے خلاف کسی باقاعدہ سنگین جرم کا ثبوت نہ ہو، وہ ملک کے لیے کوئی سکیورٹی خدشہ نہ بن چکا ہو، یا اس کے خلاف کسی اور مجرمانہ سرگرمی کا ناقابلِ تردید ثبوت موجود نہ ہو۔
اہم خبر ، دوسرے ملک میں صرف اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے والے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے غیر قانونی قرار دے دیا " جب تک کوئی جرم ثابت نا ہو تب تک سفری پابندی عائد کرنا غیر آئینی غیر قانونی ہے " اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ pic.twitter.com/zbQ5TmsKcV
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) June 3, 2026 امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس فیصلے سے ان ہزاروں پاکستانیوں کو ریلیف ملنے کی توقع ہے جو نادانستگی میں یا مجبوری کے تحت بیرونِ ملک ویزے کی مدت ختم ہونے پر ڈی پورٹ کر دیئے جاتے تھے اور پاکستان پہنچنے پر ایف آئی اے یا پاسپورٹ حکام ان کا نام کنٹرول لسٹ میں ڈال کر ان کا پاسپورٹ بلاک کر دیتے تھے، جس سے ان کے دوبارہ بیرونِ ملک جانے کے تمام راستے بند ہو جاتے تھے، عدالت نے اب اس عمل کو قانون کے منافی قرار دے دیا ہے۔