ٹی ایل پی پر پابندی کا نوٹیفکشن جاری ، فرسٹ شیڈول میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
اسلام آباد ( اپنے سٹاف رپورٹر سے +آئی این پی) وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو کالعدم جماعت قرار دیتے ہوئے فرسٹ شیڈول کی فہرست میں شامل اور پابندی لگانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت سمجھتی ہے ٹی ایل پی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ وزارت داخلہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ ٹی ایل پی پر پابندی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت لگائی گئی ہے اس لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں، نوٹیفکیشن کے بعد اسے کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ایل پی فیصلہ کے خلاف ایک ماہ تک عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔مزید براں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ ٹی ایل پی کیخلاف کافی مواد موجود تھا کہ پابندی عائد کی جائے۔ جو تنظیم ایسی کارروائی میں ملوث ہو توکالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس تنظیم نے راستے میں جگہ جگہ املاک کو نقصان پہنچایا۔ ان کیخلاف کافی مواد موجود تھا کہ پابندی عائد کی جائے جو تنظیم ایسی کارروائی میں ملوث تو اسے کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے 30 دن میں جماعت اپیل کر سکتی ہے۔ اس سے پہلے بھی اس جماعت نے یقین دہانی کرائی تھی لیکن پوری نہ کی۔ ٹی ایل پی پابندی کے 30 روز کے اندر عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔ جس جماعت کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا جائے وہ بطور سیاسی جماعت کیسے کام کرے گی۔ اگر ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ عدالت میں ٹھہرتا ہے تو یہ ریفرنس کے لئے ٹھوس بنیاد فراہم کرے گا۔ ایکشن صرف پرتشدد جماعت کیخلاف ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کہا ہے کہ کسی مسجد یا مدرسے کیخلاف کوئی ایکشن نہیں ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کالعدم قرار دیا ٹی ایل پی
پڑھیں:
گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
فائل فوٹووفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔
گلگت میں جیو نیوز سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ ہے، جس کا مقابلہ کوئی جماعت نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تمام جماعتیں اور ان کے لیڈرز انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگر کوئی جماعت یہ کہتی ہے کہ اسے حصہ نہیں لینے دیا جارہا تو وہ اپنی شکست کا بہانہ تلاش کررہی ہے۔