Nawaiwaqt:
2026-07-24@07:42:25 GMT

ٹی ایل پی پر پابندی کا نوٹیفکشن جاری ، فرسٹ شیڈول میں شامل 

اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT

ٹی ایل پی پر پابندی کا نوٹیفکشن جاری ، فرسٹ شیڈول میں شامل 

اسلام آباد ( اپنے سٹاف رپورٹر سے +آئی این پی) وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)  کو کالعدم جماعت قرار دیتے ہوئے فرسٹ شیڈول کی فہرست میں شامل اور پابندی لگانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت سمجھتی ہے ٹی ایل پی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ وزارت داخلہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ ٹی ایل پی پر پابندی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت لگائی گئی ہے اس لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں، نوٹیفکیشن کے بعد اسے کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ایل پی فیصلہ کے خلاف ایک ماہ تک عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔مزید براں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ ٹی ایل پی کیخلاف کافی مواد موجود تھا کہ پابندی عائد کی جائے۔ جو تنظیم ایسی کارروائی میں ملوث ہو توکالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس تنظیم نے راستے میں جگہ جگہ املاک کو نقصان پہنچایا۔ ان کیخلاف کافی مواد موجود تھا کہ پابندی عائد کی جائے جو تنظیم ایسی کارروائی میں ملوث تو اسے کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے 30 دن میں جماعت اپیل کر سکتی ہے۔ اس سے پہلے بھی اس جماعت نے یقین دہانی کرائی تھی لیکن پوری نہ کی۔ ٹی ایل پی پابندی کے 30 روز کے اندر عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔ جس جماعت کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا جائے وہ بطور سیاسی جماعت کیسے کام کرے گی۔ اگر ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ عدالت میں ٹھہرتا ہے تو یہ ریفرنس کے لئے ٹھوس بنیاد فراہم کرے گا۔ ایکشن صرف پرتشدد جماعت کیخلاف ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کہا ہے کہ کسی مسجد یا مدرسے کیخلاف کوئی ایکشن نہیں ہوگا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کالعدم قرار دیا ٹی ایل پی

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ