ٹی ایل پی پر ہابندی کا نوٹیفکیشن جاری،کالعدم جماعت قرار
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251025-01-22
اسلام آباد( خبر ایجنسیاں +مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی کابینہ نے گزشتہ روز ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دی تھی جس کے بعد اب وزارت داخلہ نے مذہبی جماعت پر پابندی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے بعد ٹی ایل پی کو اب کالعدم جماعت قرار دے دیا گیا ہے، نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس ٹھوس وجوہات ہیں کہ ٹی ایل پی دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے مطابق ٹی ایل پی کو فرسٹ شیڈول کے تحت کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کا نوٹیفکیشن امیر ٹی ایل پی اور الیکشن کمیشن سمیت تمام صوبوں اور متعلقہ اداروں کو بھی ارسال کر دیا گیا
ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ ٹی ایل پی پر پابندی کے لیے وزارت قانون نے بھی قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، وزارت قانون اور اٹارنی جنرل کی مشاورت کے بعدعدالت عظمیٰمیں ریفرنس دائر کیا جائے گا، عدالت عظمیٰ ریفرنس پر فوجداری ٹرائل کی طرح شواہد کا جائزہ لے کر پابندی کا فیصلہ کرے گی۔ذرائع کے مطابق آئین کے آرٹیکل17کی شق 2 اور 3 کی بنیاد پر ٹی ایل پی پرپابندی کا ریفرنس عدالت عظمیٰ میں دائر ہوگا، وفاقی حکومت دائر ریفرنس میں ٹی ایل پی کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے ثبوت دے گی، ریفرنس عدالت عظمیٰ میں جلد دائر کر دیا جائے گا۔واضح رہے کہ آئین کے مطابق کوئی سیاسی جماعت ملکی سلامتی اور وحدانیت کے خلاف کام کرے تو اس پرپابندی لگ سکتی ہے، اس صورت میں سیاسی جماعت پر پابندی آرٹیکل17کی شق 2 کے تحت لگ سکتی ہے۔آرٹیکل17 کے مطابق کسی سیاسی جماعت پرپابندی کی تصدیق تب تک نہیں ہوتی جب تک عدالت عظمیٰ فیصلہ نا دے، حکومت پابندی کے فیصلے کے بعد 15 دن میں ریفرنس عدالت عظمیٰ کو ارسال کرتی ہے، آئین کے تحت رجسٹرڈ سیاسی جماعت پر پابندی کا مکمل اطلاق عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے ہو گا۔یاد رہے کہ چند روز قبل پنجاب کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دی اور اس کی سمری وفاقی حکومت کو ارسال کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹی ایل پی پر سیاسی جماعت عدالت عظمی پر پابندی پابندی کا کے مطابق کر دیا
پڑھیں:
سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے خلاف دائر مختلف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں، جبکہ عمران خان رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست اور خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات واپس لینے کے خلاف اپیل پر 29 جولائی کو سماعت ہوگی۔
چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کا 3 رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری، کیا مقدمات کے باعث ان کی کرسی خطرے میں ہے؟
عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، آئینی عدالت اس سے قبل 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے حکومتی فیصلے پر حکم امتناع بھی جاری کرچکی ہے۔
ریڈیو پاکستان کی جانب سے پشاورمیں ریڈیو پاکستان پر حملے سے متعلق مقدمہ واپس لینے کے خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے کا کیس: سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
درخواست میں ریڈیو پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقدمہ خیبرپختونخوا سے کسی دوسرے صوبے منتقل کیا جائے، جس کی استدعا بھی عدالت کے سامنے زیر غور آئے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 مئی جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس حکم امتناع خیبر پختونخوا رہائی فورس ریڈیو پاکستان سہیل آفریدی عمران خان وزیر اعلی وفاقی آئینی عدالت