پنجاب کو محفوظ ترین صوبہ بنانے تک چین سے نہیں بیٹھوں گی: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تمام سکولوں اور تعلیمی اداروں کے باہر ڈیجیٹل نگرانی کے لئے کیمرے نصب کرنے کا حکم دیا ہے۔ پنجاب پولیس کو سکول ایجوکیشن کے ساتھ ملکر تعلیمی اداروں میں فرضی مشقیں کرانے کی ہدایت کی ہے۔ تعلیمی اداروں کے لئے سکیورٹی گارڈ، انٹری چیکنگ اور سی سی ٹی وی لازمی قرار دیا ہے۔پنجاب میں دوسروں صوبوں سے آنے اور جانے والی بسوں کے ڈرائیور اور عملے کی رجسٹریشن کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو موٹروے پولیس سے سکیورٹی کے لئے اشتراک کار کی ہدایت کی ہے۔ پنجاب بھر کے پارکس میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور سکیورٹی بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔ سیف سٹی اتھارٹی کو صوبہ بھر میں کیمروں کا فنکشنل ری ویو کرنے کی ہدایت کی ہے۔ لاہور، راولپنڈی سمیت ہر شہر میں سی سی ٹی وی کیمروں کی کوریج یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔ گھروں اور مارکیٹوں میں لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کوسیف سٹی سے منسلک کرنے اور سماج دشمن عناصر کی بروقت نشاندہی کیلئے کومبنگ آپریشن مسلسل جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔ غیر قانونی طور افغانوں کے خلاف کارروائی موثر بنانے کیلئے پنجاب میں مقیم دوسرے صوبوں کے شہریوں سے رابطوں کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ڈی سی او ر ڈی پی او کو متعلقہ علاقوں میں عمائدین سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پنجاب میں مقیم دوسرے صوبوں کے شہریوں کی سہولت اورآسانی کیلئے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ دوسرے صوبوں کے شہریوں کا کمپیوٹرائزڈریکارڈ مرتب کرنے کا مقصدغیرقانونی افغانوں کے درمیان فرق واضح کرنا ہے۔ مریم نواز نے حکم دیا کہ کوئی نمایاں عوامی مقام ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی نگرانی کے بغیر نہ ہو۔ پنجاب کو محفوظ ترین صوبہ بنانے تک چین سے نہیں بیٹھوں گی۔ پنجاب کو محفوظ ترین بنانے کیلئے شہریوں کی بھی بھرپور معاونت کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ شہری اپنے ارد گرد مشکوک افراد اور مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور 15 پر فوری اطلاع دیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے امن وامان کی صورتحال پر اظہار اطمینان کیا اور پولیس و قانون نافذ کرنے والوں اداروں کو مشنری جذبے سے کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی ہدایت کی ہے مریم نواز بنانے کی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔