وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے ماضی میں بھی حکومت کو یقین دہانیاں کرائی تھیں مگر ان پر عمل نہیں کیا۔
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعت نے حالیہ مظاہروں کے دوران جگہ جگہ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، اور ان کے خلاف ایسے شواہد موجود تھے جن کی بنیاد پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق، اگر کوئی تنظیم ایسی سرگرمیوں میں ملوث پائی جائے جو قانون اور امن عامہ کے لیے خطرہ ہوں تو اسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے بعد جماعت کو 30 دن کے اندر اپیل کرنے کا حق حاصل ہے، اور اگر نظرِ ثانی کے بعد بھی فیصلہ برقرار رہا تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔
رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ تحریک لبیک نے اس سے پہلے بھی حکومت کو تحریری یقین دہانی دی تھی لیکن اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست اب کسی ایسے گروہ کو رعایت نہیں دے سکتی جو بار بار قانون ہاتھ میں لے۔
پروگرام کے دوران انہوں نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “سہیل آفریدی نے اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ عشقِ لیڈر میں مارا جاؤں گا، وہ وزارتِ اعلیٰ کے لیے نہیں بلکہ خودکشی کے جذبے کے ساتھ آئے ہیں۔” رانا ثنااللہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں دکھایا جانا چاہیے کہ اس طرح “ہوا میں نہیں اُڑا جاتا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پیر کے روز بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات متوقع ہے۔ ان کے مطابق، “نواز شریف سمیت کسی نے بھی عمران خان کو جیل میں تکلیف دینے کی بات نہیں کی، مگر اگر سہیل آفریدی اپنی کابینہ عمران خان سے پوچھ کر بنائیں گے تو ایک نیا سیاسی مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔
رانا ثنااللہ نے گفتگو کے اختتام پر مفتاح اسماعیل کے بارے میں کہا کہ مفتاح ہمارے بھائی ہیں، وہ تو اسحاق ڈار کے شاگردوں میں سے ہیں۔
واضح رہے کہ وزارتِ داخلہ نے حال ہی میں تحریک لبیک پاکستان پر باضابطہ طور پر پابندی عائد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: رانا ثنااللہ نے سہیل ا فریدی تحریک لبیک نہیں کی کہا کہ

پڑھیں:

کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد

بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد