انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ صوبے میں بسنت کی ہرگز اجازت نہیں اور پتنگ بازی کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ غازی خان: پنجاب پولیس نے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 4 دہشتگرد ہلاک کردیے

لاہور میں جمعے کو ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی ڈاکٹر عثمان انور

کا کہنا تھا کہ ایک بسنت کے دوران 54 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے لہٰذا بسنت تو اب نہیں ہوگی۔

بڑے جرائم میں 70 فیصد تک کمی

آئی جی عثمان انور نے کہا کہ صوبے میں مجموعی جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور بڑے جرائم میں 70 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی حکومت کے نئے قائم کردہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی)  کی مؤثر حکمت عملی کا نتیجہ قرار دی گئی ہے۔

آئی جی عثمان انور کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کی جا رہی ہیں، اور پولیس کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔

قتل کی شرح میں 49 فیصد کمی، کار اسنیچنگ میں بھی کمی

انہوں نے بتایا کہ اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں قتل کے واقعات میں 49 فیصد کمی آئی ہے جو پہلے ماہانہ 1300 سے کم ہو کر اب 800 واقعات تک محدود ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: پنجاب: ڈرون پولیسنگ اور نیا مربوط سیکیورٹی اینڈ آرمز ریگولیشن سسٹم منظور

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح گاڑیاں چھیننے کے کیسز میں 62 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو پولیس آپریشنز کی کامیابی کا مظہر ہے۔

پولیس ریفارمز اور جدید ٹیکنالوجی کا نفاذ

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے عہدہ سنبھالتے ہی صوبے میں پولیس کے نظام کی ازسرنو تنظیم نو شروع کی جس کے تحت ’ڈالا کلچر‘ کے خاتمے، مافیا نیٹ ورکس کے ٹوٹنے اور جدید ڈرون سرویئلنس سسٹم کے نفاذ جیسے اقدامات کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ سرحدی چیک پوسٹس کو مضبوط بنانے کے لیے ہر پوسٹ کے لیے ڈیڑھ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ تمام نئی بھرتیاں مکمل میرٹ پر کی گئیں جن میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوئی۔

سی سی ڈی زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے، ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ

ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کے مطابق سی سی ڈی زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے تحت قتل، ڈکیتی، ریپ اور گاڑی چوری جیسے سنگین جرائم پر کوئی رعایت نہیں برتی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کے مقابلے میں اب ہر ماہ تقریباً 500 کم لوگ قتل ہو رہے ہیں جو پولیس ریفارمز اور وزیراعلیٰ کے وژن کی بدولت ممکن ہوا ہے۔

’ویپن فری پنجاب مہم شروع ہوچکی، شہریوں کے پاس 15 دن ہیں ‘

ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صوبے کو غیر قانونی اسلحے سے پاک بنانے کے لیے’ویپن فری پنجاب‘ مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

سہیل چٹھہ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں شہریوں کو 15 روزہ ایمنسٹی پیریڈ (عام معافی کی مدت) دی گئی ہے جس کے دوران وہ غیر لائسنس یافتہ اسلحہ خود جمع کروا سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا جو شہری مقررہ مدت میں اسلحہ جمع کروا دیں گے اور ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو گی تاہم 15 دن کے بعد غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اسلحہ سے متعلق جرائم 4 ماہ میں 75 فیصد کم کرنے کا ہدف

سہیل ظفر چٹھہ نے مزید کہا کہ لائسنس یافتہ اسلحے کی بھی از سر نو تصدیق کی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: پنجاب پولیس کی افسر عائشہ بٹ نے عالمی ایوارڈ جیت لیا

حکومت نے آئندہ 4 ماہ میں اسلحہ سے متعلق جرائم میں 75 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور ایڈیشنل آئی جی پنجاب سہیل ظفر چٹھہ پنجاب پولیس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور ایڈیشنل آئی جی کا کہنا تھا کہ نے کہا کہ فیصد کمی انہوں نے سی سی ڈی کے خلاف کے لیے گئی ہے

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم