پنجاب میں 70 فیصد کرائم کم ہوگئے ہیں، آئی جی ڈاکٹر عثمان انور
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ پنجاب میں 70 فیصد کرائم کم ہوگئے، پولیس نے متحرک گینگز کی گرفتاری کی ہے۔
لاہور میں ڈاکٹر عثمان انور نے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) سہیل ظفر چٹھہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔
انہوں نے کہا کہ سی سی ڈی کا کام ہی کرائم کو کنٹرول کرنا ہے، پنجاب میں پولیس نظام کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، جرائم کی شرح میں واضح کمی ہوئی ہے۔
آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ پنجاب میں 70 فیصد کرائم کم ہو گئے ہیں، سی سی ڈی اور اس کی ٹیم کو شاباش دیتا ہوں، پولیس نے پنجاب میں متحرک گینگز کی گرفتاری کی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ آج پنجاب کے 27 اضلاع میں سیف سٹی پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔
اس موقع پر سہیل ظفر چٹھہ نے کہا کہ سی سی ڈی کو خاص طور پر کرائم کم کرنے کےلیے بنایا گیا، یہ ہر قسم کے کرائم پر کام نہیں کرتی ۔
انہوں نے مزید کہا کہ سی سی ڈی، قتل، زیادتی، بھتامافیا اور ایسے کیسز دیکھتی ہے، جن کےگواہ کو قتل کر دیا جائے، ہمارے آپریشن کے بعد پنجاب میں قتل کی وارداتوں میں میں واضح کمی آئی ہے۔
سہیل ظفر چٹھہ نے یہ بھی کہا کہ سی سی ڈی پنجاب پولیس کے ساتھ مل کر جرائم کی روک تھام کےلیے کام کر رہی ہے، اب پنجاب میں کئی کئی دن ایک بھی گاڑی چھیننے کی واردات نہیں ہوتی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، ڈیڈ لائن کے اندر اندر غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے خود اسلحہ جمع کروا دیں کارروائی نہیں ہو گی۔
اے آئی جی سی سی ڈی نے کہا کہ ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد کسی کو معافی نہیں دی جائے گی، پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی سے متعلق بھی قانوں سازی کی جارہے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی کو اسلحہ لائسنس دینا ہے یا نہیں اس پر کام کر رہے ہیں، پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی کے گارڈز اور چوکیدار کی ٹریننگ کے لیے قانون بنا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کہا کہ سی سی ڈی نے کہا کہ
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔