پنجاب: ڈرون پولیسنگ اور نیا مربوط سیکیورٹی اینڈ آرمز ریگولیشن سسٹم منظور
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت امن و امان سے متعلق لگاتار چوتھا غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا جہاں پنجاب کی سرزمین سے اسلحہ اور اسمگلنگ کلچر کا مکمل خاتمہ یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔
سَرینڈر آف الیگل آرمز ایکٹ 2025 متعارف کرایا جائے گااجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سَرینڈر آف الیگل آرمز ایکٹ 2025 کو نافذِ عام کیا جائے گا۔ اس ایکٹ کو 3 مراحل میں لاگو کیا جائے گا اور اس کا بنیادی مقصد غیر قانونی اسلحہ کی واپسی، تلفی اور اسلحہ قوانین کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈیرہ غازی خان: پنجاب پولیس نے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 4 دہشتگرد ہلاک کردیے
اجلاس میں ہدایت دی گئی کہ پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ 15 دن کے اندر اندر واپس کیا جائے اور جس حد تک ممکن ہو اسلحہ کی تلفی کو یقینی بنایا جائے۔
لائسنسز کی مکمل جانچ پڑتال اور سخت سکرُوٹنیپنجاب حکومت نے اعلان کیا کہ صوبے بھر میں موجود 10 لاکھ لائسنس یافتہ اسلحہ کی ازسرِ نو جانچ پڑتال اور سخت سکروٹنی کی جائے گی۔ اس عمل میں لائسنس یافتہ اسلحہ کے مالک اور جاری کرنے والے کی تصدیق شامل ہوگی۔
پنجاب حکومت وفاقی فہرستوں کی بھی چھان بین کرے گی اور وفاقی اسلحہ لائسنس رکھنے والوں کی جانچ کے لیے وفاق سے رابطہ کرے گی۔
فیصلے کے مطابق آئندہ صرف پولیس اہلکار اور رجسٹرڈ سیکیورٹی گارڈز کو ہی اسلحہ رکھنے کی اجازت رہے گی۔
نجی سیکیورٹی کا ریگولیشن اور سروسز میں شمولیتحکومت نے فیصلہ کیا کہ نجی سیکیورٹی کمپنیوں کو رجسٹر کیا جائے گا اور ان کے لیے باقاعدہ ضوابط وضع کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب پولیس کانسٹیبل نے سکھ یاتریوں کا استقبال کیا میاں محمد بخش کے صوفیانہ کلام سے، ویڈیو وائرل
نجی سیکیورٹی گارڈز کو پنجاب پولیس کی ہیلپ لائن 15 کے ذریعے منسلک کیا جائے گا تاکہ کوآرڈینیشن اور فوری رسپانس ممکن ہو۔
ڈرون پولیسنگ اور انسٹنٹ پولیسنگ نظام کا نفاذامن و امان بہتر بنانے کے ایک اہم اقدام کے طور پر لاہور میں کرائم سین پر فوری رسائی کے لیے ڈرون پولیسنگ کا پائلٹ پراجیکٹ جلد شروع کیا جائے گا۔
اس نظام کا مقصد کسی بھی جرم یا ہنگامی صورتحال پر فوری، منظم اور ڈیجیٹل ردِعمل کو ممکن بنانا ہے، جیسے ہی جرم کی اطلاع ملے گی پولیس ڈرون کرائم سین پر پہنچ جائے گا تاکہ مجرم کی فوراً ٹریکنگ اور شواہد محفوظ کیے جا سکیں۔
بعد ازاں اس ڈرون پولیسنگ نظام کو پورے صوبے میں توسیع دی جائے گی۔ اسی سلسلے میں پنجاب پولیس میں انسٹنٹ پولیسنگ کے لیے سٹینڈرڈ سیکشن بھی قائم کیا جائے گا۔
اسلحہ اسکینرز، سخت سزائیں اور فیس میں اضافہاجلاس میں فیصلہ ہوا کہ پنجاب کے 14 اہم داخلی و خارجی مقامات پر جدید اسلحہ اسکینرز نصب کیے جائیں گے۔ اسلحہ کی اسمگلنگ کے خلاف سخت قوانین نافذ کیے جائیں گے اور اس جرم کی سزا 14 سال قید مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب پولیس کی افسر عائشہ بٹ نے عالمی ایوارڈ جیت لیا
اس کے علاوہ اسلحہ لائسنس فیس میں سالانہ 100 فیصد اضافہ کرنے کی منظوری دی گئی تاکہ اسلحہ کلچر کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
نفاذ، نگرانی اور آئندہ لائحہ عملوزیرِ اعلیٰ نے اجلاس کے بعد واضح کیا کہ صوبائی حکومت اس پالیسی کے نفاذ کے لیے تمام انتظامی، مالی اور عملی اقدامات کرے گی۔
متعلقہ محکمے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ضلعی انتظامیہ مل کر تین سطحی نفاذی میکنزم پر کام کریں گے تاکہ لائسنس کی تصدیق، اسلحہ کی واپسی، ڈرون نگرانی اور اسکینرز کی تنصیب بروقت ممکن بنائی جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلحہ اسکینرز پنجاب پولیس ڈرون پولیسنگ مریم نواز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلحہ اسکینرز پنجاب پولیس ڈرون پولیسنگ مریم نواز
پڑھیں:
ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
حکومتِ پنجاب نے ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے شہریوں کے لیے ایک بہترین اور زبردست سہولت والے اقدام کا اعلان کیا ہے۔
حکومتی فیصلے کے مطابق اب صوبے بھر میں گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والوں کو ہر وقت پلاسٹک یا کاغذی ڈرائیونگ لائسنس اپنے ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ ان کے موبائل فون میں موجود ’ای ڈرائیونگ لائسنس‘ کو قانونی طور پر مکمل قابل قبول قرار دے دیا گیا ہے۔
ڈی ایل آئی ایم ایس کا جدید ڈیجیٹل نظامپنجاب ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ نیا اور پیپر لیس نظام ’ڈرائیونگ لائسنس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (ڈی ایل آئی ایم ایس) کے تحت کام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں 16 تا 18 سال کے بچوں کے ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا شروع
اس اسمارٹ ڈیجیٹل اقدام کا بنیادی مقصد روایتی کاغذی کارروائی اور لائسنس گم ہونے یا گھر بھول جانے کے باعث شہریوں کو چالان کے خوف سے نجات دلانا اور ٹریفک کے پورے نظام کو تیز رفتار اور مؤثر بنانا ہے۔
موبائل فون پر لائسنس دکھائیں اور چالان سے بچیںنئے قوانین کے تحت اب سڑک پر موجود ٹریفک وارڈنز اور اہلکاروں کے لیے موبائل اسکرین پر دکھایا جانے والا ڈیجیٹل لائسنس ہی حتمی اور درست تصور کیا جائے گا۔
پولیس کے اعلیٰ حکام نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ٹریفک اہلکار، شخص یا ادارہ اس ڈیجیٹل لائسنس کو تسلیم کرنے سے انکار کرے، تو شہری اس کے خلاف فوری طور پر قانونی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
شکایت کے لیے واٹس ایپ نمبر اور ہیلپ لائن جاریٹریفک پولیس پنجاب نے شہریوں کی سہولت اور کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا انکار کی صورت میں فوری ایکشن کے لیے درج ذیل رابطے فراہم کیے ہیں، سرکاری ہیلپ لائن نمبر1787 جبکہ آفیشل واٹس ایپ نمبر 03184642936 ہوگا۔
مزید پڑھیں:دبئی کا ڈرائیونگ لائسنس پاکستان میں نہیں چلے گا، ٹریفک پولیس نے اوورسیز پاکستانی کا چالان کردیا
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں اور اہلکاروں کے لیے ای لائسنس کو قبول کرنا لازمی ہوگا اور اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ کارشہری اپنا پورٹیبل ای ڈرائیونگ لائسنس انتہائی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں پنجاب حکومت کی آفیشل ویب سائٹ https://dlims.punjab.gov.pk/elicense پر جانا ہوگا، جہاں وہ اپنا شناختی کارڈ نمبر اور دیگر مطلوبہ معلومات درج کر کے اپنا لائسنس دیکھ اور پی ڈی ایف فارمیٹ میں موبائل میں محفوظ کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پورٹیبل ٹریفک پولیس پنجاب ڈاؤن لوڈ ڈرائیونگ ڈی ایل آئی ایم ایس شہری لائسنس موبائل فون ہیلپ لائن