بلیک ہیٹ مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ 2025 میں پاکستان کی شاندار نمائندگی
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
ریاض میں منعقدہ بلیک ہیٹ مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ 2025 کا 3 روزہ بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی ایونٹ غیر معمولی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
جس میں اس سال 100,000 سے زائد شرکا، 300 سے زائد اسپیکرز اور 500 سے زائد عالمی برانڈز نے حصہ لیا۔
یہ ایونٹ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کا سب سے مؤثر سائبر سیکیورٹی پلیٹ فارم بن چکا ہے، جہاں عالمی تحقیق، جدید ٹیکنالوجیز اور نئے سیکیورٹی ماڈلز مستقبل کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ریاض میں بلیک ہیٹ 2025: سعودی عرب ایک بار پھر عالمی سائبر سیکیورٹی کا مرکز بننے کو تیار
ایونٹ میں پاکستان نے اپنی تاریخ کی سب سے مضبوط نمائندگی پیش کی، پاکستان پویلین نے بین الاقوامی مندوبین کی بھرپور توجہ حاصل کی۔
جبکہ پاکستان سے آئے ہوئے ماہرین اور سیکیورٹی لیڈرز کو خصوصی طور پر اسٹیج پر مدعو کیا گیا۔
ان میں سید عبدالقادر، حیدر عباس اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے نمایاں ماہرین شامل تھے، جنہیں عالمی سائبر سیکیورٹی ڈیفنس، پالیسی اور ٹیکنالوجی انوویشن پر اظہارِ خیال کے لیے خصوصی اعزاز کے ساتھ مدعو کیا گیا۔
پاکستانی وفد کی قیادت سید عبدالقادر، حیدر عباس، فیض احمد شجاع اور اہرار نقوی نے کی، جبکہ اس پورے دورے کی مؤثر میزبانی عدنان رفیق احمد نے انجام دی۔
ایونٹ کی مربوط اور اعلیٰ سطح کی کوآرڈینیشن عبدالباری شعیب اور انترنیشنل ایگزیبیشن مینیجمنٹ نے کی، جس نے پاکستان کی نمائندگی کو عالمی معیار کے مطابق منفرد انداز میں پیش کیا۔
اس سال مختلف ممالک کے شرکا نے بلیک ہیٹ ایم ای اے میں پاکستانی پویلین کا دورہ کیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستانی ٹیلنٹ اور مہارت کو خطے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں آئی ٹی اور سائبر سیکیورٹی پر پاک سعودی تعاون پر اتفاق
شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے سائبر سیکیورٹی ماہرین نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی اسٹیج پر بھی اپنی منفرد پہچان بنا رہے ہیں۔
سائبر ڈیفنس، ریسرچ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس سیکیورٹی اور انسیڈنٹ رسپانس کے شعبوں میں پاکستانی پروفیشنلز کی بڑھتی ہوئی مہارت اس مثبت پیش رفت کی عکاس ہے۔
بلیک ہیٹ مڈل ایسٹ افریقہ محض ایک ایونٹ نہیں بلکہ عالمی تعاون اور مشترکہ سیکیورٹی کا ایک مضبوط پلیٹ فارم ہے، جہاں پاکستان کا کردار تیزی سے مستحکم ہو رہا ہے۔
جیسے جیسے عالمی خطرات کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے، ویسے ویسے مشترکہ دفاع، انفارمیشن ایکسچینج اور علاقائی تعاون کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
پاکستان کی اس تاریخی شرکت نے ثابت کر دیا کہ ملک کا سائبر سیکیورٹی سیکٹر اب عالمی گفتگو کا ایک فعال اور مؤثر حصہ بن چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرٹیفیشل انٹیلیجنس افریقہ انفارمیشن بلیک ہیٹ تعاون دفاع سائبر سیکیورٹی مڈل ایسٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رٹیفیشل انٹیلیجنس افریقہ انفارمیشن بلیک ہیٹ تعاون دفاع سائبر سیکیورٹی مڈل ایسٹ سائبر سیکیورٹی میں پاکستان مڈل ایسٹ
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎