بالی ووڈ کے آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کے اہلِ خانہ نے ان کی موت سے متعلق سی بی آئی کی تحقیقات کی کلوزر رپورٹ کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق سشانت سنگھ راجپوت کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ادارے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ ’نامکمل اور گمراہ کن‘ ہے۔ مارچ 2025 میں سی بی آئی نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سوشانت سنگھ راجپوت کی موت خودکشی تھی، اور ان کی سابقہ ساتھی ریا چکرورتی یا ان کے اہلِ خانہ کے خلاف کسی قسم کے جرم، اکسانے یا مالی بدعنوانی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

 رپورٹ میں بتایا گیا کہ آنجہانی اداکار 8 جون سے 14 جون 2020 تک اپنے باندرہ والے فلیٹ میں اکیلے تھے، اور اس دوران ریا یا ان کے بھائی شووِک ان سے نہیں ملے۔

تاہم سوشانت کے اہلِ خانہ نے سی بی آئی کی تحقیقات کے ان نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات شفاف انداز میں نہیں کی گئیں۔ ان کے وکیل ایڈووکیٹ ورن سنگھ کے مطابق، ’اگر سی بی آئی سچ جاننا چاہتی تھی تو اسے تمام شواہد، جیسے چیٹس، تکنیکی ڈیٹا، گواہوں کے بیانات اور طبی ریکارڈز جمع کروانے چاہیے تھے۔‘

سشانت سنگھ راجپوت کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں بینک اسٹیٹمنٹس، ڈیجیٹل ریکارڈز اور دیگر اہم شواہد بھی شامل نہیں کیے گئے۔ اس سلسلے میں 20 دسمبر کو پٹنہ کی عدالت میں سماعت ہوگی جہاں اداکار کے اہل خانہ کی جانب سے رپورٹ کے خلاف احتجاجی درخواست دائر  کی جائے گی۔

یاد رہے کہ فلم ایم ایس دھونی میں بھارتی سابق کپتان دھونی کا کردار ادا کرنے والے اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی ان کے فلیٹ سے پنکھے سے لٹکی ہوئی لاش برآمد ہوئی تھی تاہم ان کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ ان کا بیٹا خودکشی نہیں کرسکتا اسے سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سشانت سنگھ راجپوت اہل خانہ کے اہل

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم