کراچی: پولیس کی حراست میں مبینہ تشدد سے نوجوان ہلاک، 3 اے ایس آئی سمیت 7 اہلکارمعطل
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک :سی آئی اے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (SIU) کی تحویل میں نوجوان کی ہلاکت کا افسوسناک واقعہ سامنے آگیا,مبینہ پولیس تشدد سے ہلاکت کے الزام پر3 اے ایس آئی سمیت 7 اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے، جبکہ لاش کا پوسٹ مارٹم مجسٹریٹ کی نگرانی میں کیا جائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والے نوجوان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں تھا۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والے ہوجائیں ہوشیار،بڑا فیصلہ کرلیا گیا
ذرائع کے مطابق عرفان کو عائشہ منزل سے تین ساتھیوں سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔ مقتول کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا کہ پولیس تشدد کے باعث عرفان جاں بحق ہوا۔ اہلخانہ نے وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی پولیس سے انصاف کی اپیل کی ہے۔
ایس ایس پی ایس آئی یو امجد شیخ کے مطابق واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ مقتول کے تین ساتھیوں کو تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔
ایس آئی یو پولیس کا کہنا ہے کہ عرفان کو دورانِ حراست طبیعت خراب ہونے پر اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا لیکن وہ راستے میں دم توڑ گیا۔ حکام کے مطابق جسم پر واضح تشدد کے نشانات نہیں ملے، تاہم واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
تھیٹر ہالز کو ڈراما اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت جاری
دوسری جانب عرفان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس نے عائشہ منزل سے حراست میں لیا، آنکھوں پر پٹی باندھ کر دو دن تک تشدد کیا جاتا رہا۔ ان کے مطابق جب عرفان ہلاک ہوا تو ان کی پٹی کھول دی گئی۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ عرفان پانچ بھائیوں میں سب سے بڑا اور بہاولپور کا رہائشی تھا جو پہلی مرتبہ کراچی آیا تھا۔
پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ منظر عام پر لائی جائے گی۔
سیاست میں انٹری،سلمان خان والد سمیت سیاسی جماعت میں شامل
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ کے مطابق ایس آئی
پڑھیں:
پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں شرینہ کو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق شیریں شرینہ ملزمہ کو دونوں بیٹوں کے ساتھ کامران چورنگی سے گرفتار کیا گیا، ملزمہ ہیروئن، چرس اور دیگر منشیات فروخت کرتی تھی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ چند سال قبل گرفتار ہوکر جیل گئی تھی اور دو سال پہلے واپس آئی تھی، ملزمہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف 35 کے قریب مقدمات درج ہیں، ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سےدستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔پولیس حکام کا بتانا ہے کہ ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے ڈائریکٹ ہیروئن سپلائی کرتی تھی، گرفتار ملزمہ اور ملزمان سے مذید تفتیش کی جارہی ہے۔