پختون قبائلی ہوں، تربیت ایسی نہیں گالیاں دوں،سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
پہلے دو جوکر پریس کانفرنس کرتے ہیں، اگلی صبح ایک ادارے کا ڈی جی پریس کانفرنس کرتا ہے
میرے بارے غلط الفاظ استعمال کرتا ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کا پشاور جلسہ عام سے خطاب
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ پہلے دو جوکر پریس کانفرنس کرتے ہیں، غیر اخلاقی بات کرتے ہیں، اگلی صبح ایک ادارے کا ڈی جی پریس کانفرنس کرتا ہے، میرے بارے غلط الفاظ استعمال کرتا ہے، ڈی جی آیی ایس پی آر اور جعلی سینیٹر، وزراء میں فرق ہونا چاہیٔے، نہ ہی آپ جعلی سینیٹر ہیں اور نہ ہی کسی پارٹی کے رہنماء ہیں، آپ ایک مضبوط ادارے کے ڈی جی ہیں، آپ کو ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیٔے۔پی ٹی آئی کے پشاور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں پختون قبائلی ہوں، میری تربیت ایسی نہیں کہ میں گالیاں دوں، ہم نے اپنے ملک کی خاطر 80ہزار جانوں کی قربانیاں دی ہیں، ہم صرف تنقید نہیں کرتے بلکہ حل بھی بتاتے ہیں، ایک بندہ آتا ہے ایک فیصلہ کرتا ہے دوسرا آتا ہے دوسرا کرتا ہے، یہ خیبرپختونخواہ ہے کوئی لیبارٹری نہیں ہے۔سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ 21 سال سے آپریشن پہ آپریشن، آپریشن پہ آپریشن، ڈرون پر ڈرون، 21 سال سے میرے پختونوں کا خون بہہ رہا ہے، 21 سال سے میرا پختون پاکستانیوں کے لیے جانیں دے رہا ہے، اپنی پالیسی بدلو، اب صرف ایک ہی پالیسی بنے گی، دہشتگردی بارے سنجیدہ نہ ہونے کا ہمیں طعنہ دینے والو اپنی پالیسی بدلو، 21 سال سے ملٹری آپریشن سے کامیابی نہیں ملی، پالیسی وہ چلے گی جو عوام چاہے گی، میں اقبال کا شاہین ہوں، کوے اگر مجھے چونچ ماریں گے تو ہم نے اپنی پرواز اونچی کرنی ہے، سیاسی کوے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پریس کانفرنس کرتا ہے سال سے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔