فیصلے بانی کے وژن کے مطابق اور پالیسی صرف بانی ہی کی چلے گی، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
چارسدہ:۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے قبول نہ کرنے والوں کی فکر نہیں، پالیسی صرف بانی چیئرمین کی چلے گی۔
چارسدہ میں جلسے سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کے لیے نامزد ہوا تو کہا گیا کہ ہمیں قبول نہیں، لیکن آج ثابت ہوا کہ میں عوام کو قبول ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی صرف بانی پی ٹی آئی کی چلے گی، بانی سے ملنا چاہتے تھے، لیکن عدالتی حکم کے باجود ملنے نہیں دیا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تمام فیصلے بانی پی ٹی آئی کے وژن کے مطابق ہوں گے، ہمیں اعتماد میں لیے بغیر بند کمروں کے فیصلے نہیں مانیں گے، ان کا کہنا ہے کہ مجھے ان قبول نہ کرنے والوں کی فکر نہیں، اپنے عوام سے پوچھتا ہوں کہ قبول ہوں یا نہیں، آج چارسدہ میں ثابت ہوا کہ میں قبول ہوں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ میرے خلاف پریس کانفرنس کرکے پروپیگنڈا کیا گیا، مجھے دہشت گرد بنانے کی ناکام کوشش کی گئی، کہا گیا کہ نااہل، ناتجربہ کار، بچہ ہوں، ڈیلیور نہیں کر سکتا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ آپ کے توسط سے پورے پاکستان کو پیغام دینا چاہتا ہوں، میں عمران خان کے وژن کے مطابق تمام اقدامات کروں گا، مجھے ووٹ عمران خان کی وجہ سے ملا ہے،پالیسی عمران خان کی چلے گی، تمام فیصلے عمران خان کی مرضی کے مطابق ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے عوام کی عدالت میں جانے اور اپنا مقدمہ ان کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا، مجھے کہا گیا کہ چارسدہ، خیبر، کرک نہ جاﺅ، جان کو خطرہ ہے، مارے جاﺅ گے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ مایوس نہ ہوں، ملک میں حقیقی آزادی آئین و قانون کی بالادستی لائیں گے، ملک اور قوم پر ظلم و جبر کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لاﺅں گا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت، عوام، پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا ایک بھی فیصلہ نہیں مانیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی نے کہا خیبر پختونخوا کی چلے گی نے کہا کہ کے مطابق
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔