data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وارسا: پولینڈ کے جنوبی مشرقی علاقے ڈیبرویکا میں ایک حیران کن  غیر معمولی اور عبرت انگیز واقعہ پیش آیا، جس نے سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو ایک بار پھر بے نقاب کردیا ہے۔

یہ عجیب معاملہ اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک مقامی کسان 150 ٹن آلو فروخت کرنے میں ناکام رہا ہے اور اب وہ تمام آلو مفت بانٹنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔

یہ خبر پھیلتے ہی وہاں لوگوں کا ہجوم امڈ آیا۔ درجنوں کاریں، ٹریکٹر اور ٹرک کھیت کی سمت روانہ ہوگئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں افراد وہاں پہنچے اور 150 ٹن آلوؤں کے ڈھیر سے بوریوں میں آلو بھر کر اپنے گھروں کو لے گئے۔ کسی نے اجازت لی، نہ کسی نے پوچھا کہ یہ آلو واقعی مفت ہیں یا نہیں۔

چند گھنٹوں بعد جب اصل مالک پیوٹر گریٹا وہاں پہنچا تو منظر دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔ کھیت خالی پڑا تھا اور تمام آلو غائب تھے۔ وہ آلو دراصل اس کی ملکیت تھے، جو اس نے کسانوں سے خریدے تھے اور عارضی طور پر کھیت میں ذخیرہ کیے ہوئے تھے۔ گریٹا نے اسے چوری قرار دیا اور مقامی انتظامیہ سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ “مفت آلو بانٹنے” والی پوسٹ کسی جعل ساز یا شرارتی فرد نے خود سے پھیلائی تھی۔ کسان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ایک بے بنیاد افواہ نے چند گھنٹوں میں سیکڑوں لوگوں کو بہکا دیا اور لاکھوں زلوٹی (پولینڈ کی کرنسی) کا نقصان کروا دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ