Express News:
2026-06-02@22:52:32 GMT

بھید اپنے جیون کا کیا سمجھ میں آتا ہے۔۔۔۔۔۔ ؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

زندگی مُشکلات میں گھری ہوئی ہے، سُکون نہ قرار، بس ہر پَل اذیّت سے بھرا ہُوا۔ جیون ہے کیا ہے یہ۔۔۔۔۔ ؟ اک مُشکل سے بہ صد کوشش نکلتے ہیں تو دوسری سامنے کھڑی منہ چڑا رہی ہوتی ہے، کچھ نہیں بچا، بس دُکھ ہی دُکھ ہیں، کَرب سے بھری ہوئی زندگی، کوئی کسی کا نہیں جی، ہر ایک اپنے پسینے میں ڈوبا ہُوا کرّاہ رہا ہے، اور کسے کہتے ہیں نفسانفسی، عسرت بھری زندگی۔ کسی کو دَھن گننے کی فرصت نہیں اور کوئی عسرت و مفلسی کا مارا دھیلے کوڑی کو ترس گیا ہے۔

 کیا ہے یہ سب کچھ، اور جب بالکل ہی مایوس ہوجاتے ہیں تو اس کا حل یہ نکالتے ہیں کہ اس سے تو موت ہی بھلی، لیکن پھر کوئی سوال اٹھاتا ہے کہ مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے۔۔۔۔۔ ؟ تو دانتوں تلے انگلی داب سوچ کے ساگر میں غوطے کھانے لگتے ہیں۔ دوسری طرف نگاہ دوڑائیں تو عیش و عشرت بھری زندگی گزارنے والے بھی یہی کہتے نظر آتے ہیں، ہاں! ان کے الفاظ ضرور مختلف ہوں گے لیکن رونا ان کا بھی یہی ہے۔ لیکن کیا یہ جیون آج کا مسئلہ ہے۔۔۔۔۔؟

نہیں معلوم! آپ سلجھائیے اس گتھی کو، اور بُوجھیے یہ جیون پہیلی۔ فقیر تو کچھ نہیں جانتا جی۔

ایک دن فقیر اور اس کے سنگی ساتھیوں نے اپنے بابا جی حضور کے سامنے یہی پہیلی رکھی تھی تو یاد ہے، بہت اچھے سے کہ مسکرائے اور خاموشی اختیار کی۔ سب تو صابر تھے اور شانت کہ نوازے گئے تھے اس نعمت سے لیکن فقیر عجلت کا مارا، بے صبرا، بے علم و بے عمل، احمق و نادان اصرار کرتا رہا کہ خاموش کیوں ہیں، بتائیے ۔۔۔۔ ؟ اور جب ان کی خاموشی طویل ہوگئی تو فقیر کمّی کمین بول پڑا تھا، نہیں معلوم تو یہی کہہ دیجیے۔

وہ دن تو گزر گیا اور بابا جی حضور خاموش رہے لیکن دوسرے دن خود ہی فقیر سے ہم کلام ہوئے اور پوچھا: تم جیون پہیلی کو بُوجھ سکے ۔۔۔۔ ؟ نہیں تو بابا جی! کچھ سمجھ نہیں آیا۔ یہ سن کر انھوں نے فقیر کے کاندھے پر پیار بھرا ہاتھ رکھا اور فرمایا: کب تک ایسا ہی رہے گا تُو پگلے! اتنی آسان جیون پہیلی بھی نہیں بُوجھ پایا، دیکھ اگر جیون سے مُشکلات نکال دیں تو کچھ باقی نہیں بچے گا، یہ مُشکل ہی تو جیون پر اُکساتی ہے، یہ دُکھ ہی تو سُکھ کو جنم دیتا ہے، بے قراری سکون کو جنم دیتی ہے، یہ مشکلات، دُکھ، کرب، بے قراری سب کچھ جیون کو جیون بناتے اور اسے آگے کی سمت رواں رکھتے ہیں۔

 یہ نہ ہوں تو سمجھ لو کہ زندگی بھی نہ ہو، یہ سب کچھ زندگی کے لوازمات ہیں، اگر کوئی یہ چاہے اور وہ کتنا بڑا رئیس ہی کیوں نہ ہو کہ اس کی زندگی سے یہ سارے روگ نکل جائیں تب بھی نہیں نکلتے۔ تو پگلے! بس یہی ہے پوری اور بھرپور زندگی جس میں یہ سب کچھ ہو، ورنہ تو جیون کچھ بھی نہیں، موت ہے اور مرے ہوؤں کی جگہ دنیا نہیں قبرستان ہے۔ جی بہت طویل تھی وہ نشست، چلیے سِرا تو آپ کو فقیر نے پکڑا دیا ہے، اب آپ اس ڈور کو خود سلجھائیے اور اگر آپ نے ایسا کیا تو آپ جیون پہیلی کو بُوجھ لیں گے اور یقین جانیے، چاہے کچھ ہوجائے مسکرائیں گے۔

آج کل انڈیا میں مودی جیسے فاشسٹ لوگوں کا گروہ حکم راں ہے، کہنے کو تو وہاں جمہوریت ہے لیکن ہے کیا ۔۔۔۔ ؟ سبھی جانتے ہیں یہ جُھوٹ تو۔ مودی سرکار نے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کردیا ہے، اس سے پہلے ننگ انسانیت مودی ٹولے نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تمام اصولوں، قاعدے قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا اور عالمی احتجاج کو نظرانداز کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے تمام تر حقوق کو جبراً غصب کرتے ہوئے پورے کشمیر کو کال کوٹھری میں بدل دیا ہے جو کئی سال ہوئے جاتے ہیں ہنوز ایک بدترین جیل ہے اور اس کے نہتّے اور مظلوم مسلمان قیدی بنا لیے گئے ہیں۔

لیکن! ہم تو جیون کتھا جی مشکلات بھری زندگی پر بات کر رہے تھے ناں تو اسی پر رہتے ہیں۔ یہ جو انڈیا کا ذکر بیچ میں آگیا تو اس کا جواز بھی بتائے گا فقیر۔

وہ بھی ایک بھارتی ہی تھا جو 14 اپریل 1891ء کو مہار ذات کے ایک غریب خاندان میں مہاؤ، مدھیہ پردیش میں پیدا ہوا۔ اس لڑکے کے والد کا نام رام جی اور والدہ کا نام بھیما بائی تھا۔ عجیب جیون تھا اس بچے کا اور اسی کا کیا اس ذات کے تمام لوگوں کا ہی کہ جن کا جیون صرف اذیّت تھا اور اذیّت بھی کوئی ایسی ویسی۔ نہیں جی ان کی تکالیف، دکھوں، مسائل اور مجبوریوں کو بیان کرنے کے لیے موجودہ الفاظ اور جملے کفالت نہیں کرتے، ان کے لیے الگ سے کوئی لغت ترتیب دینا ہوگی۔ اونچ نیچ، چھوت چھات کی بدبو سے بھرا، جسے سماج کہنا اس کی بدترین توہین ہے، لیکن کیا کریں، دھرتی رب کی ہے کہ وہی خالق ہے سب کا، وہی مالک ہے سب کا، وہی رب ہے سب کا۔ لیکن ان فرعون صفت انسان صورت شیاطین کا کیا کیجیے کہ وہ زمین پر خدا بن کر بیٹھ گئے اور مظلوم انسانوں کی زندگی اجیرن کر بیٹھے ہیں۔

اُس لڑکے کے من میں سمائی کہ وہ پڑھے گا، لیکن کہاں ۔۔۔۔ ؟ یہی اصل سوال تھا جس کا جواب ندارد۔ لیکن دُھن کے پکے اس لڑکے نے آخر اپنے باپ کو قائل کر ہی لیا تھا کہ وہ اسے کسی مکتب میں داخل کرائیں۔ مفلس اور دُھتکارے ہوئے انسان اس کے والد نے اپنی سی پوری کوشش کی لیکن کوئی اسے داخلہ دینے پر آمادہ نہ تھا۔ انسان کوشش جاری رکھے تو کچھ امید پیدا ہو ہی جاتی ہے تو ایک دن ایک اسکول کے ماسٹر صاحب نے کچھ شرائط کے ساتھ داخلے کی حامی بھرلی۔ اور وہ شرائط کیا تھیں، وہ اپنا ٹاٹ خود لائے گا، سب بچوں سے الگ ہوکر دُور بیٹھے گا، انھیں بہ راست نہیں دیکھے گا اور ان سے بات تو بالکل بھی نہیں کرے گا اور خاموشی کو بچھونا بنائے رکھے گا اور اس جیسی کئی شرائط۔ مجبور باپ نے ہر شرط مان لی تھی اور یوں وہ مکتب جانے لگا جہاں اس کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔

اسکول میں نل سے پانی پینے کی اسے اجازت نہ تھی اور گاؤں کے کنویں سے بھی پانی پینا ممنوع تھا۔ پانی پینے کے لیے اسے دو میل پیدل جانا پڑتا تھا۔ اونچی ذات کے دوسرے لڑکے اس سے شدید نفرت کرتے تھے۔ اس کا ہر پَل تمسخر اڑایا جاتا تھا۔ اسے زدوکوب کیا جاتا اور اسے احتجاج تو دُور رونے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ عجیب جیون تھا اس کا کہ جب کسی گلی سے گزرتا تو گلے میں گھنٹی باندھ لیتا تاکہ اونچی ذات کے لوگ اپنے گھروں کے دروازے بند کرلیں اور وہ گزر سکے۔ کوئی حجام اس کے بال تراشنے کو تیار نہ تھا، یہ سب کام وہ خود یا اس کی بہنیں کردیا کرتی تھیں۔ ایک دن وہ ایک حجام کے پاس اپنے بال ترشوانے پہنچا، اس سے اتنا بڑا جرم سرزد ہوگیا تھا کہ پھر کیا تھا حجّام سمیت ہجوم نے اسے گھیر لیا اور اسے حجام کے پاس اپنے بال ترشوانے کی جرأت کی سزا دی گئی اور اسے لہولہان کردیا۔ مکتب میں بھی ایک دن ماسٹر صاحب نے ایک امتحان لیا جس میں اونچی ذات کے بچے ناکام ہوگئے تھے اور بس وہی کام یاب ہُوا تھا، مکتب میں چھٹی کے بعد اسے لڑکوں نے گھیر لیا اور پھر وہ تشدد کیا کہ وہ اپنی کٹیا تک پہنچنے سے بھی قاصر تھا۔ جتنا ظلم بڑھتا گیا۔

اس لڑکے کا صبر اور عزم و ہمّت بھی بڑھنے لگی اور ان تمام مظالم کا سامنا کرتا رہا۔ ان بدترین حالات میں بھی وہ ہر جماعت میں نمایاں اور امتیازی کام یابی حاصل کرتا چلا گیا۔ اس ذلّت بھرے مشکل جیون کے باوجود وہ کالج جا پہنچا تھا اور پھر وہ اپنی محنت و لگن سے الفنسٹن کالج کا سب سے پہلا دلت گریجویٹ بنا۔ اس نے حالات کے قدموں میں گرنا نہیں سیکھا تھا اور اس نے اپنی راہ خود نکالی تھی۔ مشکلات کا ہر سنگ میل اسے سفر کرنے سے نہیں روک سکا تھا اور ایک دن وہ اسکالر شپ ملنے پر وہ وکالت پڑھنے لندن پہنچ گیا۔

اس کا سفر جاری رہا اور وہ لندن سے امریکا کی کولمبیا یونی ورسٹی چلا گیا جہاں سے اس نے اقتصادیات میں ماسٹر اور 1923 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد وہ پھر لندن جا پہنچا اور لندن اسکول آف اکنامکس سے پی ایچ ڈی دوبارہ کیا۔ اس کے بعد اس نے انڈیا کا رخ کیا اور ممبئی ہائی کورٹ میں پریکٹس شروع کی۔ وہ اپنے مؤکلوں کو ہمیشہ کہتا تھا اپنے جھگڑے عدالت سے کراؤ گے تو بہت خرچ آئے گا اگر خود اپنے جھگڑے نپٹاؤ گے تو مفت میں کام ہو جائے گا۔ اس کا کہنا تھا اگر آپ کسی معاشرے کو ترقی پذیر کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے تعلیم کو عام کرنا ہوگا، تعلیم امتیازات و افتراق کا استحصال کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں استحصال کم سے کم ہوتا جاتا ہے ان بالا دست طبقات کی بالا دستی خود بہ خود ختم ہوجاتی ہے، جو بے علم عوام کو اپنی مطلب براری کے لیے استعمال کرنا جانتے ہیں۔

اس نے اپنا جیون سدھانے کے بہ جائے اپنے جیسے مظلوم انسانوں کو ذلت کے جہنم سے نکالنے اور ان کی آواز بننے کا فیصلہ کرتے ہوئے 1920 میں مراٹھی زبان میں ایک ہفت روزہ اخبار نکالا اور اس کا نام ’’لوک نایک‘‘ (گونگے لوگوں کا لیڈر) رکھا۔ اس نے اپنے جیسے مظلوموں کی فلاح و بہبود اور ان کی قانونی جنگ لڑنے کے لیے ’’جنتا‘‘ نامی اخبار بھی نکالا۔ پسے ہوئے دلت جن کا حق چھین لیا گیا تھا، کے لیے کئی ایسے اسکول کھولے جس میں ان کی اقامت بھی تھی، جن کا تمام خرچ وہ اٹھاتا تھا۔

اس نے سیاسی جنگ لڑنے کے لیے ایک نئی پارٹی بنائی۔ 1930ء میں دلتوں کو مندر میں داخلے کی اجازت نہ دینے کے خلاف غیرمتشددانہ مزاحمت کے ذریعے سماجی اور سیاسی اصلاح کی تحریک برپا کی۔ وہ چھوت چھات سے اور تحقیر سے اتنا بددل ہوگیا تھا کہ اس نے ہُندو مت سے بغاوت کی اور مہاتما گوتم بدھ کا پیروکار بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے لاکھوں پیروکار بھی بدھ مت میں داخل ہوئے۔ وہ ان سب کا نجات دہندہ تھا۔

وہ گورنمنٹ لا کالج میں پروفیسر رہا۔ 1926 سے 1937ء تک وہ مہاراشٹر اسمبلی کا رکن منتخب ہوا اور دلتوں کے نمائندے کے لیے حیثیت سے ’’ آزاد لیبر پارٹی‘‘ کی بنیاد رکھی۔ 1942 میں شیڈیولڈ کاسٹ کی فیڈریشن کی بنیاد رکھی۔ 1942 سے1946ء تک وہ اس کا کرتا دھرتا اور سرگرم قائد رہا۔ برصغیر پاک و ہند کی برطانوی استعمار سے آزادی میں وہ پیش پیش تھا۔ موہن داس گاندھی کی قیادت میں انڈیا کی آزادی کے بعد نئے ملک کا آئین بنانا مشکل ترین کام تھا جو موہن داس گاندھی نے اسے سونپ دیا اور اس نے انتہائی سوچ بچار اور گفت شنید کے بعد انڈیا کا آئین تیار کیا جو آئین ساز اسمبلی سے 26 جنوری 1950 کو منظور کرلیا گیا۔

اس طرح وہ انڈین آئین کا معمار بنا۔ آئین منظور ہونے سے ایک دن پہلے اس نے آئین ساز اسمبلی میں کم زور طبقوں ، دلتوں اور مفلوک الحال لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے کہا تھا: ’’ہمیں ان بے کس اور بے سہارا لوگوں کے لیے بھیک نہیں برابری چاہیے۔ ہمیں خیرات نہیں چاہیے۔‘‘ ہال تالیوں سے گونج اٹھا، تو ایک ممبر نے بہ آواز بلند کہا تھا: ’’ جب آنے والی نسل ان الفاظ کو دہرائے گی تو انھیں وہ یاد آئیں گے، جنھوں نے ایک روندے ہوئے طبقات کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا سکھایا۔ تہذیب کو ایک عنوان دیا، خودداری کے جذبے پیدا کیا، دلتوں کو عزت سے نہ صرف جینا سکھایا بل کہ مرنا بھی۔‘‘

 بھارت کا آئین بنا کر اس نے اپنی ایسی ذمے داری نبھائی کہ وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس نے انڈین آئین کی رُو سے اچھوت کا لفظ ہی لغت سے نکال دیا آج اس لفظ کا استعمال غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ اسی آئین کی دفعہ 45 کے تحت چھے سے چودہ سال کے بچوں کے لیے ابتدائی تعلیم مفت اور لازمی قرار دی گئی ہے۔

وہ کہا کرتا تھا: ’’ملک کی دولت بینکوں اور لاکروں میں نہیں بل کہ پرائمری اسکولوں میں ہیں۔‘‘

وہ ایک روشن خیال، بلند ہمت، عالی ظرف، سماجی، اقتصادی اور سیاسی اعتبار سے پس ماندہ طبقات کا مفکّر اور قائد تھا۔ جس نے دنیا سے کہا تھا: ’’معاشرتی اتحاد کے بغیر سیاسی اتحاد ایک مُشکل عمل ہے، اگر یہ حاصل بھی ہوجائے تو اس میں استقلال کا ہونا اس طرح غیر یقینی ہے جس طرح ہوا کے تیز جھونکوں سے کسی بھی لمحے موسم گرما کے پودوں کا جڑ سے اکھڑ جانے کا خدشہ لاحق ہوتا ہے۔ صرف سیاسی اتحاد ہی سے ہندوستان ایک مستحکم ملک بن سکتا ہے۔ لیکن ملک ہونا قوم ہونا نہیں ہوتا اور ایک ایسا ملک جو قومیت کا حامل نہیں ہوتا اسے زندہ رہنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔‘‘

وہ بھارت رتن تھا۔ اس کی گراں قدر خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے جواہر لعل نہرو نے اسے وزیر قانون بناکر اپنی کابینہ میں شامل کیا تھا، اس طرح اسے انڈیا کا پہلا وزیر قانون بننے کا اعزاز حاصل ہے۔ اسے ’’معمار آئین‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس نے 63 کتب تحریر کیں۔ 1990ء میں اسے اپنے ملک کے سب سے بڑے قومی اعزاز ’’بھارت رتن‘‘ سے نوازا گیا۔ یہ باکمال شخص 6 دسمبر 1956ء کو دہلی میں لاکھوں مظلوموں کو روتا چھوڑ اس دنیا سے کوچ کرگیا۔ وہ ایک ایسی شخص تھا جو صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتا ہیں۔

وہ عظیم شخص اس دنیا سے تو رخصت ہوگیا مگر دنیا بھر کے انسان دوست اسے کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے اور اس کے اصول مشعل راہ بنے رہیں گے۔ آج اگر وہ زندہ ہوتا تو کشمیر پر لشکر کشی اور ان کے حقوق غضب کرنے کی کبھی اجازت نہیں دیتا۔ آج اگر وہ زندہ ہوتا تو مودی سرکار کبھی بھی شہریت کا کالا قانون نہیں بنا سکتی تھی۔ لیکن اس عظیم انسان نے جن لوگوں تربیت کی اور انھیں فکر و شعور سے نوازا اس کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور رکھیں گے اور ایک دن ہندتوا کے سرخیل مودی اور آر ایس ایس رسوائی کی دھول اپنے چہرے پر ملے نابود ہوجائیں گے۔

اس عظیم شخص کو آج ہم ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے نام سے جانتے ہیں۔ وہ ایک بے مثل ماہر قانون، سیاست داں، ماہر تعلیم، اور معاشیات سب سے بڑھ کر مظلوموں کے حقوق کے علم بردار اور انسانی حقوق کے پاس دار تھے۔ لوگ انھیں عقیدت و احترام سے ’’ بابا صاحب امبیڈکر‘‘ اور ’’رام جی‘‘ پکارتے ہیں۔

مت سہل ہمیں جانو پِھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے اور اس کے انڈیا کا بھی نہیں تھا اور اور اسے ذات کے کے لیے نہیں ب سب کچھ اور وہ وہ ایک کے بعد ایک دن ہیں تو بھی نہ س لڑکے اور ان ہے اور

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق