برطانوی شاہی خاندان ایک بار پھر تنازعے کی زد میں آ گیا ہے۔ جنسی اسکینڈل کے سنگین الزامات کے بعد شاہ چارلس سوم نے اپنے بھائی شہزادہ اینڈریو سے ’پرنس‘ کا لقب اور دیگر شاہی اعزازات واپس لے لیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پرنس ہیری کی کنگ چارلس سے ملاقات نے میگھن مارکل کے خدشات بڑھا دیے

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ 30 اکتوبر 2025 کو باضابطہ طور پر جاری کیا گیا، جس کے تحت شہزادہ اینڈریو اب عوامی طور پر اپنے شاہی القابات استعمال نہیں کر سکیں گے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کا نیا نام ’اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر‘ کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ شہزادہ اینڈریو پر امریکی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات اور ایک نابالغ لڑکی ورجینیا جیوفری کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے الزامات عائد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پرنس اینڈریو کو جلاوطنی کا خطرہ! شاہ چارلس سے تعلقات نازک موڑ پر پہنچ گئے

اگرچہ اینڈریو نے تمام الزامات کی تردید کی ہے، مگر مسلسل دباؤ اور عوامی ردعمل کے باعث شاہی خاندان کو شدید تنقید کا سامنا تھا۔

بکنگھم پیلس کا مؤقف

بکنگھم پیلس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ چارلس کے حکم پر شہزادہ اینڈریو اپنے تمام شاہی عہدے، القابات اور مراعات سے دستبردار ہو گئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ شاہی خاندان عوامی اعتماد کے تحفظ کے لیے شفافیت اور جواب دہی کے اصولوں پر کاربند ہے۔

رپورٹس کے مطابق شہزادہ اینڈریو سے ان کی سرکاری رہائش گاہ بھی واپس لے لی گئی ہے، اور انہیں شاہی مراعات سے محروم کر دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اس فیصلے کو شاہی تاریخ کا غیر معمولی قدم قرار دیا ہے۔

ورجینیا جیوفری کے اہلِ خانہ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انصاف کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان تمام متاثرہ خواتین کے لیے حوصلہ افزا پیغام ہے جو انصاف کے منتظر ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شہزادہ اینڈریو گیا ہے

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شاہ چارلس کے کینسر کا علاج جاری، شہزادہ ولیم نے ’شیڈو کنگ‘ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں
  • صرف ایک لفظ ’بم‘ نے آسمان میں اڑتے طیارے کو واپس موڑ دیا، حیران کن حقیقت سامنے آگئی
  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
  • نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب
  • الیکشن مہم‘ سلمان اکرم راجہ کو دیامر سے واپس بھیج دیا گیا
  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا