بلوچستان ہائیکورٹ میں 2 ایڈیشنل ججز کی تقرری کے لیے نامزدگیاں طلب
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
بلوچستان ہائیکورٹ میں 2 ایڈیشنل ججوں کی تقرری کا معاملہ، چیف جسٹس پاکستان و چیئرمین جوڈیشل کمیشن نے 13 نومبر تک نامزدگیاں طلب کر لیں۔
ذرائع کے مطابق بلوچستان ہائیکورٹ میں 2 ایڈیشنل ججوں کی تقرری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ دونوں جج ضلعی عدلیہ سے تعینات کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے بلوچستان ہائیکورٹ کے جج کا جوڈیشل کمیشن کو خط، سابق جج کی مسلسل نامزدگی پر اعتراض
ذرائع کا کہنا ہے کہ 2 اضافی ججوں کی تقرری کا فیصلہ چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کی باہمی مشاورت سے کیا گیا ہے۔
نامزدگیاں صرف سافٹ فارم (Soft Form) میں جمع کروائی جا سکیں گی۔
یہ بھی پڑھیے بلوچستان ہائیکورٹ میں کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم قائم، شہریوں کو گھر بیٹھے شکایات درج کرانے کی سہولت
مزید بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان و چیئرمین جوڈیشل کمیشن نے 13 نومبر تک نامزدگیوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایڈیشنل ججز کی تقرری بلوچستان ہائیکورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایڈیشنل ججز کی تقرری بلوچستان ہائیکورٹ بلوچستان ہائیکورٹ میں چیف جسٹس کی تقرری
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔