پاکستان کی نیہا منکانی ٹائم میگزین کی ’100 کلائمیٹ‘ فہرست میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
سندھ کی مڈ وائف نیہا منکانی عالمی شہرت یافتہ جریدے ٹائم نے اپنی سالانہ فہرست ’ٹائم 100 کلائمیٹ 2025‘ میں شامل کر لیا، اور وہ اس فہرست میں شامل واحد پاکستانی خاتون ہیں۔
نیہا منکانی کو فہرست میں ’ڈیفینڈر‘ کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جہاں وہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جدوجہد میں عالمی سطح کے سی ای اوز، وزراء، سربراہان مملکت اور حتیٰ کہ پوپ لیو XIV جیسے بڑے ناموں کے ساتھ جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔
نیہا کا ’ماما بیبی فنڈ‘ منصوبہ، جو ساحلی اور موسمیاتی بحران زدہ علاقوں میں خواتین اور بچوں کو جان بچانے والی سہولیات فراہم کرتا ہے، دس سال قبل ایک چھوٹے فنڈ کے طور پر شروع ہوا تھا۔ آج یہ تنظیم کراچی کے باہر بابی آئی لینڈ پر کلینک بھی چلا رہی ہے، جہاں گزشتہ سال 4,000 حاملہ خواتین کا معائنہ کیا گیا اور 200 نوزائدہ بچوں کا علاج کیا گیا۔
مزید برآں، یہ تنظیم ایک ایمبولینس بوٹ بھی چلاتی ہے جو مریضوں کو کیماڑی ہسپتال پہنچاتی ہے۔
ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں نیہا منکانی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی فرنٹ لائن پر موجود برادریوں میں خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں، لیکن ان کے مسائل اکثر نظر انداز کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماؤں کی دیکھ بھال ایک کم لاگت، مؤثر اور قابل رسائی حل ہے، جو پاکستان جیسے ملک میں نوزائدہ بچوں اور ماؤں کی صحت کے بحران کو کم کر سکتا ہے۔
نیہا منکانی نے قبل ازیں 2023 میں بی بی سی کی ’100 خواتین‘ کی فہرست میں بھی جگہ بنائی تھی، جہاں ان کا نام مشیل اوباما، ایمل کلونی اور ہدہ کیٹن جیسی عالمی شخصیات کے ساتھ شامل تھا۔ انہیں امریکا کے پاکستان مشن سے بھی اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔
’ماما بیبی فنڈ‘ 2015 میں قائم کیا گیا، جس کا مقصد مالی امداد کے ذریعے حاملہ خواتین اور نوزائدہ بچوں کی صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ نیہا منکانی انٹرنیشنل کانفیڈریشن آف مڈ وائفز میں ہیومینیٹرین انگیجمنٹ اور کلائمیٹ ایڈوائزر بھی ہیں اور انہوں نے کراچی کے ہائی رسک وارڈ میں 16 سال کام کیا، جس دوران انہوں نے ساحلی جزیروں کی خواتین کی ضروریات کو قریب سے سمجھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نیہا منکانی فہرست میں کیا گیا
پڑھیں:
فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔
فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔
ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔
متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔
سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔
ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔
سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔
اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔
خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔
ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔
ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔
2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔
استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔
امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔