سپریم کورٹ نے ماہرنگ بلوچ نظر بندی کیس پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بھیج دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے ماہرنگ بلوچ کی نظر بندی سے متعلق کیس پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بھجوا دیا۔
جسٹس امین الدین کی سربراہی میں قائم 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران یہ فیصلہ سنایا۔
سماعت کے دوران ماہرنگ بلوچ اور دیگر کی جانب سے وکیل فیصل صدیقی پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ آئینی بینچ کا نہیں بلکہ ریگولر بینچ کا کیس ہے، کیونکہ درخواست گزاروں نے اپیل میں کسی قانون کی تشریح نہیں مانگی۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ بلوچ کے والد حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد میں شامل رہے، گلزار امام شمبے کا انکشاف
عدالت نے وکیل کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ معاملہ آئینی تشریح سے متعلق نہیں، اس لیے اسے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو ریفر کیا جاتا ہے تاکہ آئندہ کارروائی وہ کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جسٹس امین الدین سپریم کورٹ ماہرنگ بلوچ نظر بندی کیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس امین الدین سپریم کورٹ ماہرنگ بلوچ نظر بندی کیس ماہرنگ بلوچ
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔