سپریم کورٹ نے ماہرنگ بلوچ نظر بندی کیس پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بھیج دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے ماہرنگ بلوچ کی نظر بندی سے متعلق کیس پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بھجوا دیا۔
جسٹس امین الدین کی سربراہی میں قائم 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران یہ فیصلہ سنایا۔
سماعت کے دوران ماہرنگ بلوچ اور دیگر کی جانب سے وکیل فیصل صدیقی پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ آئینی بینچ کا نہیں بلکہ ریگولر بینچ کا کیس ہے، کیونکہ درخواست گزاروں نے اپیل میں کسی قانون کی تشریح نہیں مانگی۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ بلوچ کے والد حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد میں شامل رہے، گلزار امام شمبے کا انکشاف
عدالت نے وکیل کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ معاملہ آئینی تشریح سے متعلق نہیں، اس لیے اسے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو ریفر کیا جاتا ہے تاکہ آئندہ کارروائی وہ کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جسٹس امین الدین سپریم کورٹ ماہرنگ بلوچ نظر بندی کیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس امین الدین سپریم کورٹ ماہرنگ بلوچ نظر بندی کیس ماہرنگ بلوچ
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔