پاراچنار، گورنر کاٹیج تقریب کا انعقادا، طلبہ اور اساتذہ میں انعامات تقسیم
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
ڈپٹی کمشنر ضلع کرم اشفاق احمد، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عامر نواز، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عابدہ پروین اور ڈاکٹر ہدایت حسین نے کہا کہ تعلیمی میدان میں بہترین کارکردگی کے حامل افراد میں ایوارڈ تقسیم کرنے سے طلبہ اور اساتذہ کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر کاٹیج پاراچنار میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں تعلیمی میدان میں بہترین کارکردگی پر طلبہ اور اساتذہ میں انعامات تقسیم کئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کی جانب سے گورنر کاٹیج پاراچنار میں ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں سرکاری تعلیمی اداروں کے سربراہان اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔ تقریب میں تعلیمی میدان میں بہترین کردگی کے حامل طلبہ اور اساتذہ میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کی جانب سے ایوارڈز تقسیم کئے گئے۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ضلع کرم اشفاق احمد، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عامر نواز، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عابدہ پروین اور ڈاکٹر ہدایت حسین نے کہا کہ تعلیمی میدان میں بہترین کارکردگی کے حامل افراد میں ایوارڈ تقسیم کرنے سے طلبہ اور اساتذہ کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی اور ٹیلنٹڈ سٹوڈنٹس اور اساتذہ کو ایوارڈ دینے جیسی تقریبات مستقبل میں بھی جاری رکھی جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تعلیمی میدان میں بہترین طلبہ اور اساتذہ ڈپٹی کمشنر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔