WE News:
2026-06-02@23:26:52 GMT

5 پیشے جن میں اے آئی انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے

اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT

5 پیشے جن میں اے آئی انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے

مصنوعی ذہانت اب صرف ایک مددگار ٹول نہیں رہی بلکہ ایک مضبوط حریف کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ آرٹ سے لے کر طب تک، اے آئی نے ہر شعبے میں غیر معمولی پیشرفت کی ہے اور کئی جگہوں پر انسانی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت میں ترقی گوگل سرچ اور ایمازون کو ماضی کا حصہ بنا دے گی، بل گیٹس

ذیل میں ایسے 5 پیشے بیان کیے گئے ہیں جہاں اے آئی نمایاں طور پر انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے۔

کسٹمر سروس کے نمائندے

جدید اے آئی چیٹ بوٹس اب لاکھوں صارفین کی شکایات اور سوالات لمحوں میں حل کر رہے ہیں۔ یہ نظام جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جو بغیر کسی وقفے کے دن رات درست اور فوری جوابات فراہم کرتے ہیں۔ کئی بڑی کمپنیاں اب مکمل طور پر اے آئی پر مبنی کسٹمر سپورٹ پر انحصار کر رہی ہیں کیونکہ یہ انسانی ایجنٹس کے مقابلے میں زیادہ تیز اور مؤثر ہیں۔

مترجمین اور ترجمان

اے آئی پر مبنی ترجمہ سسٹمز اب انسانی سطح کی درستگی کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ یہ ٹولز نہ صرف دستاویزات بلکہ لائیو گفتگو کا فوری ترجمہ بھی ممکن بناتے ہیں، جس سے بین الاقوامی رابطے پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور تیز ہوگئے ہیں۔

مواد نگار اور مارکیٹرز

اے آئی رائٹنگ ٹولز اب چند سیکنڈز میں معیاری مضامین، پراڈکٹ ڈسکرپشنز اور اشتہاری تحریریں تیار کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے باعث زیادہ متاثر ہونے والی نوکریاں کون سی ہیں؟

اگرچہ انسان اب بھی تخلیقی انداز، جذباتی رنگ اور منفرد اسلوب میں آگے ہیں، لیکن رفتار اور تسلسل کے لحاظ سے اے آئی واضح برتری رکھتی ہے۔

ریڈیالوجسٹ اور میڈیکل اسکرینرز

طبی میدان میں اے آئی نے حیران کن کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جدید اے آئی سسٹمز ایکس ریز، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی رپورٹس کا تجزیہ کئی تربیت یافتہ ماہرین سے زیادہ درستگی سے کر رہے ہیں۔ گوگل ہیلتھ اور آئی بی ایم واٹسن جیسے پلیٹ فارمز نے کینسر کی ابتدائی علامات کی نشاندہی بھی انسانی آنکھ سے پہلے کر لی۔

جون میں امریکی ایف ڈی اے نے پہلا ایسا اے آئی ٹول منظور کیا جو صرف میموگرامز کی بنیاد پر 5 سالہ بریسٹ کینسر رسک کی پیشگوئی کر سکتا ہے۔

مالیاتی تجزیہ کار

اے آئی الگورتھمز اب سیکنڈز میں لاکھوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کر کے اسٹاک مارکیٹ کے رجحانات کی پیش گوئی اور مالی فراڈ کی شناخت کر لیتے ہیں۔ یہ کام انسانی تجزیہ کاروں کے لیے وقت طلب اور مشکل ہوتا ہے۔ اے آئی کی تیز رفتار تجزیاتی صلاحیتوں نے سرمایہ کاری اور بینکنگ کے شعبوں میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اے آئی ریڈیالوجسٹ کسٹمر سروس مالیاتی تجزیہ کار مترجمین مصنوعی ذہانت مواد نگار.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے ا ئی مالیاتی تجزیہ کار مصنوعی ذہانت مواد نگار مصنوعی ذہانت اے آئی

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا