حمید حسین کی سنٹرل کرم دھرنے کے شرکاء کے ہمراہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
انجنیئر حمید حسین طوری نے اس موقع پر کہا کہ اہلیانِ کرم نے ہمیشہ ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے قربانیاں دی ہیں، لہٰذا حکومتِ خیبر پختونخوا کو چاہیے کہ وہ عوام کے تحفظ اور بحالی کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے پارلیمانی لیڈر و رکنِ قومی اسمبلی انجنیئر حمید حسین طوری نے سنٹرل کرم دھرنے کے شرکاء کے ہمراہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، شہاب علی شاہ سے ان کے دفتر میں اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں دھرنے کے شرکاء نے سنٹرل کرم میں جاری آپریشن کے باعث پیدا ہونے والی سنگین صورتحال پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ آپریشن کو فوری طور پر بند کیا جائے، متاثرہ خاندانوں کو جلد از جلد اپنے آبائی علاقوں میں واپس بھیج کر بحال کیا جائے اور ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔ انجنیئر حمید حسین طوری نے اس موقع پر کہا کہ اہلیانِ کرم نے ہمیشہ ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے قربانیاں دی ہیں، لہٰذا حکومتِ خیبر پختونخوا کو چاہیے کہ وہ عوام کے تحفظ اور بحالی کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔
بعد ازاں ایم این اے انجنیئر حمید حسین طوری، چیف سیکرٹری شہباب علی شاہ کے ہمراہ پشاور پریس کلب کے سامنے جاری دھرنے میں بھی شریک ہوئے اور مظاہرین سے ملاقات کی۔ اس موقع پر لوئر کرم کے ایم پی اے سمیت دیگر سیاسی و قبائلی رہنماء بھی موجود تھے۔ انجنیئر حمید حسین طوری نے دھرنے کے شرکاء سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ متاثرین کے جائز مطالبات کو اسمبلی فلور اور متعلقہ فورمز پر بھرپور انداز میں اُٹھائیں گے تاکہ ضلع کرم کے عوام کو جلد انصاف اور ریلیف مل سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دھرنے کے شرکاء خیبر پختونخوا
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔