پنجاب اور خیبر پختونخوا کے لئے گیس لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سوئی ناردرن گیس نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کیلئے گیس لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول جاری کر دیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا کے لئے دسمبر تا فروری تک گیس لوڈ شیڈنگ کا شیڈول جاری کیا گیا ہے، اس شیڈول کے مطابق صارفین کو تین اوقات میں وقفے وقفے سے گیس فراہم کی جائے گی۔
ان اوقات کے دوران عوام ناشتہ اور کھانا بنا سکیں گے، نئے شیڈول کے مطابق دونوں صوبوں میں صبح ساڑھے 5 بجے سے ساڑھے 8 بجے گیس ملے گی اس دوران صارفین ناشتہ بنا سکیں گے جبکہ دوپہر ساڑھے 11 سے ڈیڑھ بجے تک گیس میسر ہو گی۔
پاکستان میں سولر پینلز کے حوالے سے بڑی خوشخبری
ایس این جی پی حکام کا کہنا ہے کہ شام ساڑھے 5 بجے سے ساڑھے 8 بجے تک گیس صارفین کو میسر گی، اس دوران صارفین رات کا کھانا بنا سکیں گے۔
حکام کے مطابق صنعتی سیکٹر کے لیے لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی لیکن سردیوں میں گیس کی طلب میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
سوئی ناردرن گیس کمپنی نے کہا ہے کہ سسٹم میں گیس موجود ہے اور کوئی قلت نہیں ہے، گیس مہنگی ہے اس وجہ سے صارفین بھی ضرورت کے مطابق گیس کا استعمال کریں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔