نیلامی کے ریکارڈ توڑنے والے بھارت کے مسلمان ’پکاسو‘ نے ہندو انتہا پسندوں کو غصہ کیوں دلا دیا؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
بھارت کے مشہور مصور ایم ایف حسین کی پینٹنگز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ ایک طرف ان کے فن پارے لاکھوں ڈالر میں نیلام ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف ہندو انتہا پسند ایک بار پھر ان کے فن پاروں کی فروخت روکنے کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں۔
مقبول فدا حسین کو بھارت کے جدید مصوروں میں سب سے نمایاں شمار کیا جاتا ہے اور انہیں ”ہندوستان کا پکاسو“ کہا جاتا ہے۔ موت کے بعد بھی ان کا فن عالمی پذیرائی حاصل کر رہا ہے، جبکہ حال ہی میں ممبئی میں کچھ گمشدہ فن پاروں کی نیلامی پر ہندو دائیں بازو کی تنظیموں نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ یہ پینٹنگز فروخت نہ کی جائیں، کیونکہ ان میں مبینہ طور پر ہندو دیوی دیوتاؤں کی ”غیر مہذب“ تصاویر شامل ہیں۔
فنکارانہ سفر اور عالمی شناخت
ایم ایف حسین نے جدید مصوری (ماڈرن آرٹ) میں ایک منفرد مقام حاصل کیا، اور ان کے فن میں ہندوستانی ثقافت، تاریخ اور دیومالائی کہانیاں واضح طور پر جھلکتی ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ممبئی میں فلموں کے بڑے بل بورڈز پینٹ کر کے کیا، اور یہی جرات مندانہ اور واضح انداز بعد میں ان کے کینوس پر بھی نظر آیا۔
ان کے فن پاروں کے مرکزی موضوعات میں مدر ٹریسا، ہندو دیوی اور دیوتا شامل تھے، جن کے ذریعے انہوں نے جدید ہندوستان کی روح اور ثقافت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
نیلامی اور حالیہ تنازع
مارچ 2025 میں ایف ایم حسین کی دیہی زندگی پر مبنی 14 فٹ طویل پینٹنگ ’’بے عنوان‘‘ نیویارک کے کرسٹیز نیلام گھر میں 1 کروڑ 37 لاکھ 50 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی، جو کسی بھارتی جدید فن پارے کی سب سے مہنگی نیلامی بن گئی۔
لیکن تین ماہ بعد ممبئی میں ان کی 25 گمشدہ پینٹنگز کی نیلامی کا منظر بالکل مختلف تھا۔ نیلام گھر کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی اور رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، کیونکہ ایک ہندو قوم پرست تنظیم نے دھمکی دی کہ اگر نیلامی منسوخ نہ کی گئی تو ’’شدید عوامی احتجاج‘‘ کیا جائے گا۔ تنظیم کا دعویٰ تھا کہ حسین کے فن پارے ان کی ’’مقدس شخصیات کی توہین آمیز عکاسی‘‘ پر مبنی ہیں۔
ماضی کے تنازعات
ایم ایف حسین کے خلاف تنازعات 1990 کی دہائی میں شروع ہوئے، جب ہندو دائیں بازو کی تنظیموں نے ان کی ہندو دیوی دیوتاؤں پر مبنی پینٹنگز پر اعتراض کیا اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزامات لگائے۔ ان کے خلاف 1200 سے زائد مقدمات درج کیے گئے۔
بڑھتے احتجاج، دھمکیوں اور قانونی پیچیدگیوں کے پیش نظر حسین نے 2006 میں بھارت چھوڑ کر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی۔ بعد میں انہوں نے قطر کی شہریت حاصل کی اور 2011 میں لندن میں انتقال کر گئے۔ ان کی میراث آج بھی فن کی آزادیٔ اظہار اور مذہبی حساسیت کے درمیان ایک اہم اور متنازع موضوع بنی ہوئی ہے۔
عالمی سطح پر ان کے فن کی قدر
ممبئی کی نیلامی آخرکار کسی ناخوشگوار واقعے کے بغیر مکمل ہوئی، لیکن یہ مواقع حسین کے مقام اور تنازع کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک ایسا فنکار جو بھارت کے سب سے بڑے مصوروں میں شمار ہوتا ہے، مگر اپنے ہی ملک میں اس کی قدر کم رہی۔
اسی برس دہلی کی ایک عدالت نے ان کی دو مبینہ ’’قابل اعتراض‘‘ پینٹنگز ضبط کرنے کا حکم دیا، جبکہ قطر فاؤنڈیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ حسین کے فن پاروں پر مشتمل ایک مستقل میوزیم قائم کرے گی۔ یاد رہے کہ حسین نے 2006 میں انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے بعد بھارت چھوڑ کر قطر میں پناہ لی تھی، جہاں انہیں بعد میں شہریت بھی دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارت کے فن پاروں ان کے فن حسین کے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔