یوٹیوبر ڈکی بھائی نے 100 دن بعد خاموشی توڑنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
مشہور پاکستانی یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی نے 100 دن کی خاموشی کے بعد آج اپنے فالوورز سے خطاب کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈکی بھائی، جو حال ہی میں غیر قانونی بڈنگ ایپس کے فروغ کے الزامات کے تحت جیل میں قید تھے، اب ضمانت پر رہا ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: یوٹیوبر ڈکی بھائی جیل سے رہا، آن لائن سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت
ڈکی بھائی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا، ‘100 دن۔ صفر الفاظ۔ آج، اتوار، شام 6 بجے یوٹیوب پر میں اپنی خاموشی توڑ رہا ہوں۔ اور انٹرنیٹ یہ کبھی نہیں بھولے گا۔’
100 days.
— Ducky Bhai (@duckybhai) December 6, 2025
ان کے فالوورز اور سوشل میڈیا صارفین اس ویڈیو کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، جس میں ان کی واپسی اور طویل قانونی جدوجہد کے بعد انکشافات متوقع ہیں۔
اس سے قبل 26 نومبر کو ڈکی بھائی کو لاہور کی کیمپ جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جوئے کی ایپ کی تشہیر کیس: لاہور ہائیکورٹ نے یوٹیوبر ڈکی بھائی کی ضمانت منظور کرلی
اس سے قبل لاہور کی ایک مقامی عدالت نے فوری رہائی کا حکم جاری کیا تھا جس میں جج مجسٹریٹ نعیم وٹو نے حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ سعد الرحمان کو رہا کریں بشرطیکہ وہ کسی اور زیر التوا کیس میں ملوث نہ ہوں۔
ڈکی بھائی پر جوا کی ایپلیکیشن کو غیر قانونی طور پر پروموٹ کرنے کے الزامات عائد تھے جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے کیس درج کیا اور ان کی آن لائن سرگرمیوں کی تحقیقات شروع کیں۔
مزید پڑھیے: لاہور ہائیکورٹ: جسٹس فاروق حیدر نے ڈکی بھائی کی ضمانت کی سماعت سے معذرت کر لی
ابتدائی طور پر یوٹیوبر کو 17 اگست کو لاہور ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا جب الزام تھا کہ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس جوا ایپ کی تشہیر کی تھی جس کے بعد حکام نے رسمی تفتیش کا آغاز کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
NCCIA این سی سی آئی اے جیل ڈکی بھائی یوٹیوبر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: این سی سی ا ئی اے جیل ڈکی بھائی یوٹیوبر ڈکی بھائی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔