چاول کی درآمد پر مزید ٹیرفز لگ سکتے ہیں، امریکی صدرکی بھارت کو دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر زرعی امپورٹ پر مزید ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں تاکہ امریکی کسانوں کو غیر ملکی درآمدات سے پیدا ہونے والے نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
امریکی کسانوں کے لیے اربوں ڈالر کی امدادی اسکیم متعارف کرائے جانے اور زرعی مسائل پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سے امریکا میں درآمد ہونے والے چاول کی قیمتوں پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سستے داموں آنے والے چاول امریکی کسانوں کے لیے خطرہ ہیں اور اس کو ڈمپنگ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی مارکیٹ میں بھارتی چاول کی بے حد فراہمی امریکی زرعی پیداوار کو متاثر کر رہی ہے، اور ضرورت پڑنے پر بھارت سے درآمد ہونے والے چاول پر سخت ٹیرف عائد کیے جائیں گے، یہ اقدامات امریکی کسانوں اور ملک کی زرعی معیشت کے تحفظ کے لیے ہیں، کیونکہ کسان امریکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ضرورت پڑنے پر کینیڈا سے درآمد ہونے والی کھاد پر بھی ٹیکسز لگائے جا سکتے ہیں تاکہ زرعی شعبے کے مفادات کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے بھی سوال کیا کہ بھارت کو امریکا میں چاول ڈمپ کرنے کی اجازت کیوں ہے اور کیا اس پر کوئی ٹیرف یا ٹیکس لگایا گیا ہے، جواب میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ بھارتی چاول پر کچھ ٹیکس عائد ہے لیکن وہ بہت معمولی ہے اور اس معاملے پر بات چیت جاری ہے۔
خیال رہے کہ امریکی کسان گزشتہ کچھ عرصے سے شکایت کر رہے ہیں کہ سستے بین الاقوامی درآمدی چاول نے امریکی پیداوار اور قیمتوں پر منفی اثر ڈالا ہے، خاص طور پر ان ممالک سے جو قیمتیں کم رکھ کر امریکی مارکیٹ میں چاول بھیجتے ہیں۔
ویب ڈیسک
وہاج فاروقی
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی کسانوں
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی