پاکستان کی معروف انفارمیشن سروسز اور ٹیکنالوجی انوویشن کمپنی زونگ فورجی نے پاک چین لو کاربن انٹیلی جنٹ مینوفیکچرنگ انٹرنیشنل جوائنٹ انوویشن لیبارٹری کے قیام کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ لیبارٹری فاسٹ،نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز اسلام آباد میں قائم کی جائے گی، جو چین اور پاکستان کے درمیان سائنسی اور تکنیکی تعاون کے ایک نئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ لیبارٹری زونگ فورجی، سوزو یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (USTS)، گوانگ ژو انسٹیٹیوٹ آف سافٹ ویئر اپلیکیشن ٹیکنالوجی (GZIS) اورفاسٹ ،نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز کے باہمی اشتراک سے قائم کی جارہی ہے جو ایک ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد سائنسی تحقیق کو مضبوط بنانا، علمی تبادلے کو فروغ دینا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کم کاربن انوویشن کو آگے بڑھانا ہے۔

اس اشتراک کے تحت ابتدائی تحقیق چار بنیادی شعبوں پر مرکوز ہوگی جن میں کلاؤڈ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے استعمال کے ذریعے کم کاربن اور ماحولیاتی تحفظ،مصنوعی ذہانت اور 5G کنیکٹیویٹی کے ذریعے انٹیلی جنٹ کنسٹرکشن اینڈ مینوفیکچرنگ،بگ ڈیٹا اور اسمارٹ انرجی مینجمنٹ کے ذریعے قابل تجدید توانائی کے نظام اور ڈیجیٹل اور انٹیلی جنٹ ایپلیکیشنز جوآئی او ٹی ،اے آئی اور ایڈوانسڈ اینالیٹکس کو یکجا کرتی ہیں۔یہ تمام شعبے ایک اسٹریٹجک روڈمیپ کی نمائندگی کرتے ہیں جو اس مستقبل کی جانب رہنمائی کرتا ہے جہاں تکنیکی انوویشن پائیدار ترقی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔

چین ۔پاک انٹرنیشنل جوائنٹ انوویشن لیبارٹری ایک کثیر الشعبہ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی جو تعلیمی و صنعتی دنیا کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گی اور سائنسی کامیابیوں کو مارکیٹ میں استعمال کے قابل سالوشنز میں تبدیل کرے گی۔ اس کے علاوہ، یہ کم کاربن سسٹم اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں نوجوان ریسرچرز اور انجینئرز کے لیے ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ کے مواقع بھی فراہم کرے گی تاکہ وہ چین۔پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک) کے فریم ورک کے مطابق عملی تحقیق اور پائلٹ منصوبوں میں حصہ لے سکیں۔زونگ صنعتی سہولت کار کے طور پر کردار ادا کرے گا، جو تعلیمی تحقیق کو عملی کاروباری ایپلیکیشنز سے جوڑے گا جبکہ شراکت دار یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے اپنے خصوصی مہارت اور استعداد کار کے ذریعے مشترکہ تحقیقی نتائج کو فروغ دیں گے۔

زونگ کے چیف ٹیکنیکل آفیسر ڈاکٹر ماؤ وی لیانگ نے کہا کہ ،”اس انٹرنیشنل جوائنٹ انوویشن لیبارٹری کا قیام ایک نئے ایسے ایکو سسٹم کی تشکیل کی جانب فیصلہ کن قدم ہے جہاں تحقیق حقیقی دنیا پر اثر ڈالتی ہے۔ چین اور پاکستان کے نمایاں تعلیمی اور تحقیقی اداروں کو یکجا کر کے ہم انٹیلی جنٹ مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل انوویشن، بشمول 5G، مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں پائیدار صنعتی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھ رہے ہیں۔”

فاسٹ ،نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسزکے ریکٹر ڈاکٹر آفتاب معروف نے کہا کہ ،”یہ تعاون اکیڈمیہ اور انڈسٹری کے مابین مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور اس امر کو اجاگر کرتا ہے کہ یونیورسٹیاں پاکستان کے انوویشن ایکو سسٹم کو تشکیل دینے میں کس طرح اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اپنے طلبہ اورریسرچرز کواے آئی( AI)،انٹرنیٹ آف تھنگز( IoT)، کلاؤڈ اور لو کاربن سسٹمز پر مبنی عملی تحقیق میں شامل کر کے ہم ایسے حل فراہم کر رہے ہیں جو قومی و بین الاقوامی سطح پر پائیدار صنعتی ترقی میں مددگار ثابت ہوں گے۔”

چین۔پاکستان لو کاربن انٹیلی جنٹ مینوفیکچرنگ انٹرنیشنل جوائنٹ انوویشن لیبارٹری کا قیام بیلٹ اینڈ روڈ فریم ورک کے تحت سائنسی و تکنیکی ترقی کے مشترکہ عزم کی نمائندگی کرتا ہے، جو انڈسٹری ،ریسرچ اور پائیداری کے درمیان روابط مستحکم کرنے میں زونگ کے تکنیکی سفر کو تقویت دیتا ہے۔

اشتہار

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل یونیورسٹی آف انٹیلی جنٹ کے ذریعے کرتا ہے کرے گی

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ