برطانوی شاہ چارلس نے اپنے بھائی سے ’پرنس‘ کا لقب واپس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
برطانوی شاہ چارلس نے اپنے بھائی سے ’پرنس‘ کا لقب واپس لے لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 31 October, 2025 سب نیوز
لندن: برطانوی بادشاہ چارلس نے سنگین الزامات کی زد میں آنے والے اپنے چھوٹے بھائی شہزادہ اینڈریو سے ’پرنس‘ کا لقب واپس لے لیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق شہزادہ اینڈریو کو حاصل تمام تر شاہی نوازشات بھی ضبط کرلی جائیں گی، شاہ چارلس اپنے چھوٹے بھائی شہزادہ اینڈریو سے تمام تر شاہی مراعات جن میں القابات، اعزازات اور سرکاری رہائش گاہ شامل ہیں باقاعدہ طور پر آج ضبط کرلیں گے۔
شہزادہ اینڈریو جنسی الزامات کے بعد رواں ماہ کے آغاز میں ڈیوک آف یارک سمیت دیگر شاہی القابات سے دستبردار ہوگئے تھے، شہزادہ اینڈریو کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کیا گیا ہے، شہزادہ اینڈریو شہزادے کے لقب سے محروم ہونے کے بعد اب اینڈریو ماؤنٹ بیٹن کہلائیں گے۔
شہزادہ اینڈریو اب پرائیوٹ سینڈرنگھم اسٹیٹ میں منتقل ہوجائیں گے جسے بادشاہ کی طرف سے نجی طور پر فنڈ کیا جائے گا، برطانوی شاہی محل کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ بادشاہ کی جانب سے تمام ہمدردیاں متاثرین اور اس سے بچ جانے والوں کے ساتھ ہیں اور رہیں گی۔
واضح رہے کہ یہ اقدام ایک امریکی خاتون شہری ورجینیا رابرٹس گیفری کی کتاب کی اشاعت کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ورجینیا گیفری نے الزام عائد کیا کہ شہزادہ اینڈریو نے 2001ء میں 3 مختلف مقامات لندن، نیویارک اور یو ایس ورجن آئلینڈز میں اسے اس وقت ساتھ جنسی طور پر ہراساں کیا جب وہ محض 17 سال کی تھیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب سخت اور شدید ہوگا، ترجمان پاک فوج قطری وزیراعظم نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام فلسطینی گروہ پر عائد کردیا غزہ میں حماس نے مزید دو یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دیں لبنانی صدر نے فوج کو کسی بھی اسرائیلی دراندازی کا مقابلہ کرنے کا حکم دے دیا چین اور امریکہ کو مختلف سطحوں پر رابطے برقرار رکھنے چاہیے ، چینی صدر چینی صدر شی ایک عظیم ملک کے عظیم رہنما ہیں، امریکی صدر سوڈان میں نسل کشی: الفاشر پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے حملوں میں 1500 افراد ہلاک، عالمی مذمتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔