ایشوریا سے شادی کی خواہش رکھنے والے ہاٹ میل کے بانی کیساتھ سلمان خان نے کیا کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
مشہور بھارتی ٹیکنالوجی ماہر اور ہاٹ میل کے بانی صابر بھاٹیا کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے ماضی میں بالی ووڈ اداکارہ ایشوریہ رائے سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد ان کی سلمان خان سے ایک دلچسپ اور غیر متوقع ملاقات ہوئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 2001 میں ایک ہائی پروفائل پارٹی میں صابر بھاٹیا، ٹی وی میزبان سمی گریوال کے ہمراہ شریک تھے جہاں ان کی ملاقات سلمان خان سے ہوئی۔ اس وقت سلمان اور ایشوریہ کے تعلقات خبروں میں تھے کہ وہ ڈیٹ کر رہے ہیں۔
ملاقات کے دوران سلمان نے طنزیہ انداز میں صابر بھاٹیا سے کہا، ’تو تم وہ ہو جو ایش سے شادی کرنا چاہتے ہو؟‘ جس پر صابر نے مسکراتے ہوئے اسے محض ایک افواہ قرار دیا، جس پر سلمان خان نے کہا، ’وہ (ایشوریا) بہت اچھی لڑکی ہے‘۔
رپورٹ کے مطابق پارٹی میں ایک موقع پر صابر بھاٹیا کے ہاتھ پر سلمان خان کی جلتی سگریٹ حادثاتی طور پر لگ گئی، جس پر سلمان نے طنزیہ انداز میں کہا، ’آخرکار تمہارے ہاتھوں پر راکھ آ ہی گئی‘۔
یاد رہے کہ سلمان خان ایشوریا سے شادی کرنا چاہتے تھے تاہم دونوں کے تعلقات خراب ہوئے اور بریک اپ ہوگیا جبکہ صابر بھاٹیا نے بعد ازاں 2008 میں تانیہ شرما سے شادی کی جو 2013 میں طلاق پر ختم ہوئی۔
واضح رہے کہ صابر بھاٹیا نے 1996 میں ہاٹ میل متعارف کرائی تھی، جو دنیا کی پہلی ویب بیسڈ ای میل سروس تھی تاہم ایک سال بعد ہی مائیکروسافٹ نے اسے 400 ملین ڈالر میں خرید لیا تھا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل صابر بھاٹیا
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔