بی وائی سی کی چیف آرگنائزر ماہ رنگ بلوچ کراچی میں درج بغاوت کے مقدمے سے بری
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
کوئٹہ(نیوز ڈیسک) انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) نے بدھ کے روز بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی گرفتار چیف آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو بغاوت اور دیگر الزامات کے مقدمے سے بری کر دیا۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ مقدمہ کراچی میں اُن پر سکیورٹی اداروں پر الزامات لگا کر عوام کو اکسانے کے الزام میں درج کیا گیا تھا۔
تاہم موجودہ مقدمے میں بریت کے باوجود، بی وائی سی کی رہنما (جو اس وقت کوئٹہ کی جیل میں قید ہیں) ان کے خلاف متعدد دیگر مقدمات زیرِ التوا ہونے کی وجہ سے بدستور حراست میں رہیں گی۔
اے ٹی سی نمبر 5 نے مشاہدہ کیا کہ مدعی نے ایف آئی آر تو درج کرائی، مگر اپنے مؤقف کے ثبوت کے لیے کوئی آزاد گواہ پیش نہیں کر سکا۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ استغاثہ کی جانب سے 5 گواہ پیش کیے گئے جن میں شکایت کنندہ کے علاوہ باقی تمام پولیس اہلکار تھے اور وہ مبینہ واقعے کے حقائق سے واقف نہیں تھے۔
بی وائی سی کی رہنما اور دیگر افراد کے خلاف 11 اکتوبر 2024 کو قائدآباد تھانے میں دہشت گردی اور بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اپنے وکیل محمد جبران ناصر کے ذریعے فوجداری ضابطہ کار کی دفعہ 256-K کے تحت بریت کی درخواست دائر کی تھی۔
فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد، جج نے درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمہ کو بری کردیا۔
عدالتی حکم میں کہا گیا کہ استغاثہ کے گواہوں کے بیانات، جو دفعہ 161 کے تحت تحقیقاتی افسر نے قلم بند کیے، میں مبینہ واقعے کے حوالے سے ایک لفظ بھی موجود نہیں تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔
یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ تحقیقاتی افسر نے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے وقت نہ کسی نجی یا آزاد گواہ کو طلب کیا اور نہ ہی اہلِ علاقہ سے واقعے کے بارے میں کوئی معلومات حاصل کیں۔
عدالت نے چالان جمع کرانے میں تاخیر کی نشاندہی بھی کی۔
حکم کے مطابق مقدمہ اکتوبر 2024 میں درج ہوا جب کہ چالان اگست 2025 میں ، یعنی 10 ماہ کی تاخیر کے بعد، اور وہ بھی بغیر کسی وجہ بتائے جمع کرایا گیا۔
جہاں تک ملزمہ کے اسی نوعیت کے دوسرے مقدمات میں ملوث ہونے کا تعلق ہے، عدالت نے قرار دیا کہ یہ اصول مسلمہ ہے کہ محض کیسز کا زیرِ التوا ہونا کسی ملزم کو مجرم قرار دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
دفاع کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے مدعی کی ساکھ بھی چیلنج کی کہ وہ خود مبینہ طور پر مجرمانہ مقدمات میں ملوث رہا ہے۔
استغاثہ کے مطابق، یہ مقدمہ لانڈھی کے ایک مقامی تاجر اسد شمس کی شکایت پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے نامعلوم ساتھیوں کے خلاف درج کیا گیا تھا، الزام لگایا گیا کہ وہ سوشل میڈیا پر غیر ملکی سرپرستوں کے ایما پر بی وائی سی رہنما کی ’ریاست مخالف مہم‘ دیکھ رہا تھا۔
مزید کہا گیا تھا کہ انتشار اور نفرت پھیلانے کے لیے انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ریاستی اداروں پر شہریوں کے قتل کے الزامات لگائے اور مبینہ طور پر دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کیا، جو ان کی ریلیوں میں مظاہرین کے درمیان چھپ کر حساس مقامات کی ریکی کرتے ہیں۔
ایف آئی آر تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 124-اے (بغاوت)، 148 (مہلک ہتھیار سے بلوہ)، 149 (غیر قانونی اجتماع)، 153-اے (گروہوں کے درمیان نفرت پھیلانا)، 500 (ہتکِ عزت کی سزا) اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 کے تحت درج کی گئی تھی۔
عدالت کے حکم میں کہا گیا کہ زیرِ التوا مقدمات کی بہتات کے پیش نظر، کمزور، ناکافی اور ناقابلِ قبول شواہد پیش کرنے کی اجازت دینے کے بجائے، اب وقت آ گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ اپنے وسیع اختیارات استعمال کرے تاکہ عوامی وقت ضائع نہ ہو اور دیگر اہم مقدمات کی کارروائی مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔
فاضل جج نے فیصلے میں لکھا کہ ان حالات میں، میری رائے ہے کہ ملزمہ کے کسی جرم میں سزا پانے کا کوئی امکان موجود نہیں، لہٰذا یہ درخواست منظور کرتا ہوں اور ملزمہ محترمہ ماہ رنگ بلوچ دختر عبدالغفار کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265-K کے تحت بری کرتا ہوں۔
عدالت نے مزید لکھا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کوئٹہ جیل حکام کی جانب سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئیں، موجودہ مقدمے میں بریت کے باوجود وہ دیگر مقدمات زیرِ التوا ہونے کی وجہ سے حراست میں رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بی وائی سی عدالت نے گیا تھا کیا گیا درج کی گیا کہ کے تحت
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔