معروف امریکی سوشل میڈیا اسٹار اور ماڈل کم کارڈیشیئن نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ذہنی دباؤ سے متعلق دماغی اینیورزم (Brain Aneurysm) کی تشخیص ہوئی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہ انکشاف کم کارڈیشیئن نے اپنی ریئلٹی سیریز ’دی کارڈیشیئنز‘ کے نئے سیزن کے ٹیزر میں کیا ہے جو سوشل میڈیا پر سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

ویڈیو کلپ میں کم کارڈیشیئن کو ایم آر آئی اسکین کے دوران دکھایا گیا، جس کے بعد انہوں نے اپنے اہلخانہ کو بتایا، ’ڈاکٹرز نے کہا کہ ایک چھوٹا سا اینیورزم ہے۔‘ان کی بہن کورٹنی کارڈیشیئن نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’اوہ‘  کم کے مطابق، ڈاکٹرز نے اس کیفیت کو ’صرف ذہنی دباؤ‘ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کم اس وقت اپنی مصروف زندگی، قانون کی تعلیم اور ذاتی زندگی کے دباؤ کے باعث ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ طلاق کے بعد انہیں دوبارہ ’سورائیسس‘ کی بیماری نے بھی متاثر کیا، جو ان کے مطابق ذہنی دباؤ سے جڑی ہے۔

کم کارڈیشیئن نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح اپنے چار بچوں کو اس بیماری کی وجہ سے پڑنے والے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اب اپنے سابق شوہر کانیے ویسٹ سے علیحدگی پر بےحد افسوس

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کارڈیشیئن نے کم کارڈیشیئن کے مطابق

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی