معروف صحافی عارف الحق عارف کا جسارت میڈیا گروپ کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:امریکا میں مقیم معروف پاکستانی صحافی اور جسارت کے ایڈیٹر ان چیف عارف الحق عارف نے گزشتہ روز جسارت میڈیا گروپ کا تفصیلی دورہ کیا ہے، دورے کے موقعے پر انہوں نے اپنے نام سے منسوب عارف الحق عارف جسارت ڈیجیٹل کے دوسرے گرین اسٹوڈیو کا ربن کاٹ کر سنگ بنیاد رکھا۔
جسارت ڈیجیٹل کے دوسرے گرین اسٹوڈیو کی مختصر اور پر وقار تقریب میں جسارت کے چیف ایڈیٹر شاہنواز فاروقی ،ایڈیٹر ان چیف جسارت عارف الحق عارف، چیف آپریٹنگ آفیسر(سی او او) سید طاہر اکبر ،جسارت کے اسائمنٹ ایڈیٹرعرفان احمد،جسارت ایڈوٹریل کے الیاس بن زکریا ،ڈپٹی مارکیٹنگ ہیڈسید محمد فاضل نقوی،ڈیجیٹل ویب کے قمر خان سمیت جسارت کے دیگر کارکنان نے شرکت کی ہے۔
سنگ بنیاد کی تقریب کے موقعے پر عارف الحق عارف نے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ روزنامہ جسارت گزشتہ 56 برس سے صحافت کے میدان میں اپنا نمایاں اور موثر کردار ادا کر رہا ہے۔ جسارت قومی و بین الاقوامی حالات سے عوام کو باخبر رکھنے اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینے میں اپنا لازوال کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ جسارت نے ہمیشہ سے صحافت کی نرسری کا کردار ادا کیا ہے یہاں سے سیکھ کر صحافیوں نے دنیا بھر میں اپنا مقام بنایا ہے اور آج بھی جسارت صحافیوں کا مرکزہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک رہنے کے باوجود میرا دل جسارت اور ان سے منسلک صحافیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔
عارف الحق عارف نے اپنی صحافتی زندگی کے بارے میں تفصیل سے بتایا کہ میں نے جنگ گروپ کو 1967 میں جوائن کیا جو رسمی طور پر 2018 تک جاری رہا اس کے بعد آج تک میں اعزازی طور پرجنگ کیساتھ منسلک ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا آنے کے بعد صحافت کی ہیت تبدیل ہو گئی ہے۔ بڑے بڑے اخبارات کی اشاعت بند ہوچکی ہے لیکن جسارت نے آج تک اپنی اشاعت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، آئندہ آنے والے دور میں جدید ٹیکنالوجی زندگیوں میں بہت بڑی بڑی تبدیلی لائے گی۔
اس موقعے پر جسارت کے چیف ایڈیٹر شاہنواز فاروقی اور سی او او سید طاہر اکبر نے عارف الحق عارف کا جسارت کا تفصیلی دورہ کرنے اور اپنے بھر پور تعاون کی یقین دھانی کرانے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عارف الحق عارف جیسے سینئر صحافی ہماری لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپ نے ہمیشہ صحافت میں پیشہ ورانہ اصولوں اور شفافیت کو ترجیح دی اور نوجوان صحافیوں کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔ جسارت آپ کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور آپ کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے،عارف الحق عارف نے اپنی زندگی کی بہترین یادداشتیں جسارت میں پوڈ کاسٹ میں ریکارڈ کروائیں جوبہت جلد یہ فرائیڈے اسپیشل میں شائع اور جسارت ڈیجیٹل میں نشر کی جائیں گی۔
عارف الحق عارف کو چیف ایڈیٹر شاہنواز فاروقی کی جانب سے کتابوں کا تحفہ پیش کیا گیا اوراختتام پر دعا کی گئی کہ اللہ تعالی جسارت میڈیا گروپ کے اس منصوبے کو کامیاب بنائے اورسید مودودی رحمہ اللہ کے لگائے ہوئے پودے کو اور شجر سایہ دار بنائے آمین۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عارف الحق عارف نے جسارت کے
پڑھیں:
بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ
بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔
نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔
بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔
حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔
ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔
تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔
کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔
2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان
دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز